Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
120 - 274
وَعَلَی اللہِ فَتَوَکَّلُوۡۤا اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ ﴿۲۳﴾(پ۶،المآئدة:۲۳)
ترجمۂ کنزالایمان:اوراللہہی پربھروسہ کرو اگر تمہیں ایمان ہے۔
	ایک مقام پر ارشاد فرمایا:
وَعَلَی اللہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوۡنَ﴿۱۲۲﴾(پ۴،اٰل عمرٰن:۱۲۲)
ترجمۂ کنزالایمان:اورمسلمانوں کواللہہی پر بھروسہ چاہیے۔
	دین کاصحیح احساس رکھنےوالے کے لئے یہی ایک نکتہ کافی ہے۔ وَ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم۔
کفرکا دروازہ:
	دوسرا نکتہ:تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ رزق تقسیم ہو چکا ہے اور یہ بات قرآن وحدیث سے ثابت ہے اور تمہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی تقسیم بدلتی نہیں ہے اگر تم  نے اس تقسیم کا انکار کیا یا پھر اس میں کسی کوتاہی کا گمان کیا توسمجھو لو یہ کفر کا دروازہ ہے جسے تم کھٹکھٹا رہے ہو۔نَعُوْذُ بِاللہ۔ جب تمہیں یقین ہے کہ اس میں رد وبدل نہیں ہو سکتا تو پھر اس کی طلب وجستجو کا کیا فائدہ، اب یہ طلب وجستجو دنیا میں ذلت وخواری اور آخرت میں تنگی ونقصان کے سوا کچھ نہیں ہے۔
سکون کیسے ملا؟
	تیسرا نکتہ:حضرت سیِّدُناابواسحاقعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاقفرماتےہیں:رزق کےمعاملہ میں جس چیز سے مجھے سکون ہوا وہ یہ ہے کہ میں نے اپنے نفس سے کہا:’’یہ رزق زندہ انسانوں کےلئےہے،مُردوں کورزق سےکیاتعلُّق اورجس طرح انسانی زندگیاللہ  عَزَّ وَجَلَّکے خزانے اوراس کےدَستِ قدرت میں ہےاسی طرح رزق بھی اسی کےقبضہ وقدرت