Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
119 - 274
 کفالت کا ذمہ لیا ہے۔ اسے یوں سمجھو کہ کوئی بادشاہ تم سے  وعدہ کرے کہ آج رات تم میرےمہمان اورتمہیں اس کےمتعلق یہ حُسنِ ظن بھی ہوکہ یہ اپنی گفتگومیں سچاہے جھوٹا نہیں اور وعدہ خلافی نہیں کرتا بلکہ اگر کوئی بازاری یا یہودی یاعیسائی یا کوئی پارسی(آگ کا پجاری) جس کا ظاہر حال اچھا ہو وہ تم سے ایسا وعدہ کرے تو تم ضرور اس کی بات پر اعتماد کرو گے،اس پر مطمئن ہوجاؤ گے اور اس کی بات پر بھروسا کر کے رات کے کھانے کے متعلق بےفکر ہو جاؤ گے، پھر تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تم سے تمہارے رزق کا وعدہ فرمایاہے، اس کی ضمانت وکفالت کا ذمہ لیاہے بلکہ کئی مرتبہ اس پر قسم ارشاد فرمائی ہے پھر بھی تم اس کے وعدے پر مطمئن نہیں، اس کے قول اور اس کی ضمانت پر تمہیں قرار نہیں اورنہ ہی تم اس کی قسم کودیکھ رہےہوبلکہ اُلٹاتمہارادل بےچین وبےقراراوروہم میں مبتلا ہے۔کاش!یہ ذلت ورسوائی  دیکھی جاتی اور کاش!یہ مصیبت سمجھی جاتی۔
	امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسےیہ اشعارمروی ہیں:
اَ تَطْلُبُ رِزْقَ اللّٰہِ مِنْ عِنْدِ غَیْرِہٖ		وَ تُصْبِحُ مِنْ خَوْفِ الْعَوَاقِبِ اٰمِنَا
وَتَرْضٰی بِصَرَّافٍ وَّ لَوْ کَانَ مُشْرِکًا		ضَمِیْنًا وَّ لَا تَرْضٰی بِرَبِّکَ ضَامِنَا
	ترجمہ:کیا تم ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا رزق کسی اور سے طلب کرکے انجام سے بے خوف ہوجاؤ گے ؟اور تم کسی سِکّےتبدیل کرنےوالےکےضامن بننےپرراضی ہوجاتےہواگرچہ وہ مشرک ہی ہواوررب تعالیٰ کے ضامن بننے پر راضی نہیں ہوتے ۔
معرفت ودین کو خطرہ:
	’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ضمانت پراعتمادنہ کرناشک کی طرف لےجاتاہےاورمَعَاذَاللہایسے بندے سے معرفت بلکہ دین کے چھن جانے کا خوف ہے ۔اسی لئے ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: