تھا۔شیطان نےمجھے وسوسہ ڈالا کہ یہ مسجد آبادی سے بہت دور ہے،یہاں قیام کے بجائے اگر تو کسی ایسی مسجد میں قیام کرے جو آبادی میں واقع ہو تو لوگ تجھے دیکھ کر تیرے کھانے پینے کا خیال رکھیں گے۔ میں نے خود سے کہا:اب میں یہیں رہوں گا اور خدا کی قسم! میں حلوے کے سوا اورکچھ نہیں کھاؤں گا اور حلوہ بھی اس وقت تک نہیں کھاؤں گا جب تک لقمہ لقمہ کرکےمیرےمنہ میں نہ ڈالاجائے۔چنانچہ میں نےنمازِعشاء اداکی اورمسجدکادروازہ بند کر دیا، رات کا ابتدائی حصہ گزراتو اچانک کسی نے مسجد کا دروازہ کھٹکھٹایا،اس کےپاس چراغ بھی تھا، جب اس نے کافی زور زور سے دروازہ کھٹکھٹانا شروع کیا تو میں نے اُٹھ کر دروازہ کھول دیا، دیکھا تو سامنے ایک بڑھیاکھڑی تھی جس کے ساتھ ایک نوجوان بھی تھا۔ وہ اندر داخل ہوئی اور میرے سامنے حلوے سے بھرا تھال رکھ کر کہنے لگی:یہ نوجوان میرا بیٹا ہے، میں نے یہ حلوہ اس کے لیے تیار کیا تھا ،دورانِ گفتگو اس نے قسم کھالی کہ”وہ یہ حلوہ اکیلانہیں کھائےگایہاں تک کوئی مسافریاوہ مسافرجواس مسجدمیں ٹھہراہواہےاس کے ساتھ کھائے۔“’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ تجھ پر رحم کرے!تو بھی کھا۔پھر اُس بڑھیا نے ایک لقمہ میرے اور ایک لقمہ اپنے بیٹے کے منہ میں ڈالنا شروع کر دیا۔
70سال مجاہدہ والے بھی غیرمحفوظ:
اللہ عَزَّ وَجَلَّتم پر رحم فرمائے! بزرگانِ دین کے ان مجاہدات اور شیطان کے خلاف ڈٹ جانے پر غور کرو تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ جورزق تقدیر میں لکھا ہے وہ بہرصورت تمہیں مل کر رہے گااورتم جان لو کہ رزق اور توکل کا معاملہ بہت اہم ہے اوراس میں شیطان بڑی فریب کاریوں اور وسوسوں سے کام لیتا ہے حتّٰی کہ مذکورہ بزرگوں جیسی بڑی ہستیاں بھی ان سےمحفوظ نہ رہیں اور اس قدرمجاہدوں اور ریاضتوں کے باوجود شیطان اُن سے مایوس نہ
ہوا یہاں تک کہ اُسے دور کرنے کے لئےان بزرگوں کوایسے ذرائع اختیار کرنے پڑے۔ خدا کی قسم! جس نے 70سال تک نفس وشیطان سے جہاد کیا وہ بھی اِن کے وسوسوں سے اُسی طرح غیرمحفوظ ہے جس طرح عبادت کی ابتداکرنے والاغیرمحفوظ ہے بلکہ اُس غافل شخص کی طرح غیرمحفوظ ہے جس نے لمحہ بھر بھی کوئی ریاضت نہ کی ہو۔پھر اگر نفس وشیطان اپنے وار میں کامیاب ہو گئے تو وہ اسے رسوائی وہلاکت میں