خبری ہے اس بندے کے لئے جس نے اپنے ربّعَزَّ وَجَلَّ کو ترجیح دی اور آخرت کی اُمید پر دنیا قربان کر دی۔
جنگل میں گھی اور شہدکی تمنا:
ایک بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکسی جنگل میں تھےکہ شیطان نےانہیں یہ وسوسہ ڈالا:
”آپ کے پاس زادراہ نہیں ہےاور یہ جنگل ہلاکت خیز ہے،یہاں آبادی ہے نہ کوئی انسان ۔“
توانہوں نےبھی تہیہ کرلیا کہ ”وہ اس جنگل کوزادِراہ کےبغیر طے کریں گےاورعام راستہ چھوڑ کر چلیں گے تاکہ کسی انسان سے سامنا نہ ہو اور خود کچھ نہیں کھائیں گے یہاں تک کہ ان کے منہ میں گھی اور شہد ڈالا جائے۔“پھر وہ راستے سے ہٹ کر جدھر رُخ تھا چل پڑے۔ فرماتے ہیں:’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جتنا چاہا میں چلتا رہا،پھر میں نے دیکھا کہ ایک قافلہ راستہ بھول کر چلا آرہا ہے، میں انہیں دیکھتے ہی زمین پر لیٹ گیا تاکہ وہ مجھے دیکھ نہ سکیں مگر وہ چلتے رہے حتّٰی کہ میرے سر پرآ پہنچے، میں نے آنکھیں بند کرلی تھیں ۔وہ میرے قریب ہوکر کہنے لگے :لگتا ہے کہ اس کا زادِسفرِختم ہوگیا ہے اور بھوک پیاس کی شدت سے بیہوش ہے ،اس کے منہ میں گھی اورشہدڈالوشایداسےہوش آجائے۔پھروہ گھی اورشہدلائےتومیں نےاپنامنہ اوردانت مضبوطی سے بند کر لئے،پس انہوں نے چُھری لاکر میرا منہ زبردستی کھولنا چاہا تو میں ہنس پڑا اورمنہ کھول دیا،یہ دیکھ کر وہ بولے:کیا تم پاگل ہو؟ میں نے کہا: ہر گز نہیں اور تمام تعریفیں’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہیں۔ پھر میں نے انہیں شیطانی وسوسے والا واقعہ سنایا ۔
حلوہ ہی کھاؤں گا:
ایک بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:علم حاصل کرنے کے زمانہ میں دورانِ سفر میں نے ایک ایسی مسجد میں قیام کیا جو آبادی سے کافی دورتھی، میرے پاس کوئی توشہ نہیں