Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
115 - 274
 سےتھام لیا،مخلوق سےبےنیازہوکراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی آیات کایقین کرلیااورنفس،مخلوق اور شیطانی وسوسوں کےفریب میں آنےکےبجائےصراط مستقیم کومرکزِنگاہ بنالیا،جب نفس، شیطان یا کوئی انسان انہیں کوئی وسوسہ ڈالتا ہے تو وہ اس کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوتے اور مزاحمت کرتے ہیں یہاں تک کہ مخلوق ان سے منہ پھیر لیتی ہے، شیطان بھاگ کھڑا ہوتا ہے اور نفس تابعدار بن جاتا ہے اور وہ صراطِ مستقیم پر ثابت قدم رہتے ہیں۔چنانچہ
12برس جنگل میں گزارے :
	حضرت سیِّدُناابراہیم بن اَدْہَمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمکےمتعلق یہ حکایت منقول ہے کہ جب آ پ نے زَادِ رَاہ کے بغیر ایک جنگل عُبُور کرنے کا ارادہ کیا تو اِبلیس نے آکر آپ کو یوں ڈرانےکی کوشش کی کہ ’’یہ ایک خطرناک جنگل ہے اور آپ کے پاس اِسے طے کرنے کے لئے زَادِ راہ ہے نہ کوئی اور ذریعہ۔‘‘شیطان کی طرف سے یہ خو ف دلانے پر آپ نے پختہ ارادہ کرلیا کہ میں ضرور یہ خوفناک جنگل زادِ راہ کے بغیر طے کروں گااورہر میل پر ایک ہزار رکعت نفل ادا کروں گا۔ چنانچہ آپ اپنے ارادہ پر ثابت قدم رہے اور اس جنگل میں بارہ برس گزار دئیے۔انہی سالوں میں اس جنگل سے ہارون رشید حج کے ارادے سے گُزرا تو اس نے آپ کو ایک جگہ نوافل ادا کرتے دیکھا۔ اسے بتایاگیا کہ یہ حضرت اِبراہیم بن اَدْہَمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم ہیں تواُس  نے آپ کے پاس آکر کہا: ’’اے ابو اِسحاق! آپ اس حال میں خود کو کیسا پاتے ہیں؟‘‘تو آپ نےیہ دو شعر پڑھے:
نُرَقِّعُ دُنْیَانَا بِتَمْزِیْقِ دِیْنِنَا		فَلَا دِیْنُنَا یَبْقٰی وَ لَا مَا نُرَقِّعُ
فَطُوْبٰی لِعَبْدٍ اٰثَرَ اللّٰہَ رَبَّہٗ		وَ جَادَ بِدُنْیَاہٗ لِمَا یَتَوَقَّعُ
	ترجمہ:ہم اپنا دین برباد کرکے دنیا سنوارتے ہیں تو ہمارا دین رہتا ہے نہ دنیا۔پس  خوش