Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
114 - 274
اور اس کی خدمت سے منہ پھیر کر دنیا اور دنیا والوں کی چاپلوسی میں لگ گئے ، انہوں نے دنیا کی زندگی،دھوکے، غفلت، اندھیرے، تھکاوٹ اور ذلت ورسوائی میں بسر کر دی اور بالکل خالی ہوکرآخرت کی طرف روانہ ہوگئے۔ اب  اگراللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے فضل سے رحم نہ فرمائے تو ان کے سامنے حساب اور عذاب ہی ہے۔
	دیکھو تو سہیاللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس بارے میں کتنی آیات نازل فرمائیں اور کتنی ہی جگہ پر اپنے وعدے، ضمانت اور قسم کا ذکر فرمایا،حضرات  انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَاماور علم والے مسلسل لوگوں کو نصیحت اور ان کے لئے راستوں کو واضح کرتے رہے، کتابیں لکھیں، مثالیں دیں، لوگوں کو خوف خدا دلایا مگر افسوس! لوگ پھر بھی سیدھی راہ پر نہیں چلتے،تقوٰی اختیار نہیں کرتے اور رزق کے معاملے میں مطمئن نہیں ہوتے بلکہ وہ اس میں بے ہوشی کی حد تک پہنچ چکےہیں، انہیں یہی ڈر رہتا ہے کہ کہیں صبح یا شام کا کھانا فوت نہ ہوجائے۔اس غفلت کی بنیادی وجہ قرآنِ کریم،اللہ عَزَّ وَجَلَّکی صنعت وتخلیق اور اس کے بندوں پر احسانات میں غور وفکر کی کمی ہےحالانکہ کتنی ہی نعمتیں تو بغیر کسی سبب کے ہی حاصل ہو جاتی ہیں۔ یونہی حضورنَبیِّ کریم،رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےفرامین سےنصیحت نہ پکڑنااور صالحین کے اقوال میں غور نہ کرنا بھی اس غفلت کا سبب ہے  اور اس کے  ساتھ ساتھ لوگ وسوسوں کا شکار اور جاہلوں کی گفتار سے مانوس ہو چکے ہیں اور انہوں نے غافلوں کی عادتیں اپنا لی ہیں حتّٰی کہ شیطان اُن پر مُسَلَّط ہو گیا اور بری عادتیں ان کے دلوں میں راسخ ہوگئیں پس ان عوارض کی وجہ سے لوگ اعتقاد اور یقین کی کمزوری کا شکار ہو گئے ۔
	اصحابِ بصیرت اورریاضت ومجاہدہ والےبرگزیدہ بندوں کامعاملہ اس کےبرعکس ہے، انہوں نےاس بات کایقین کرلیاکہ مخلوق کی پیدائش سےپہلےہی رزق لوحِ محفوظ میں مقدر ہوچکاہےپس یہ حضرات اسبابِ دنیاکوخاطرمیں نہیں لائےاوراللہ  عَزَّ وَجَلَّکی رسی کو مضبوطی