وَ تَوَکَّلْ عَلَی الْحَیِّ الَّذِیۡ لَا یَمُوۡتُ (پ۱۹،الفرقان:۵۸)
ترجمۂ کنزالایمان:اوربھروسہ کرواس زندہ پر جو کبھی نہ مرے گا۔
اب حضورنبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےبارےمیں تمہاراکیاخیال ہےکیا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی کی اور اپنے دل کو کھانے، پینے یا درہم ودینارسےلگایا؟ہرگزنہیں،بلکہ ان کامبارک دل توہمیشہ خدا عَزَّ وَجَلَّکی یاد میں رہا اورسرے سےدنیا کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوااور نہ کبھی آپ نے زمین کے خزانوں کی طرف ہاتھ بڑھائے۔آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّماور دیگربزرگوں کا زادراہ لینااچھی نیتوں پرمشتمل تھا نہ کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکو چھوڑکرزادِ راہ سے دل لگانے کے سبب،الغرض اصل اعتبار نیت وارادے کا ہے۔
زادِ راہ کب نہ لینا افضل؟
زادسفرساتھ لینےیاترک کرنےکامعاملہ اَحوال واشخاص کےاعتبارسےمختلف ہے،اگر کوئی ایسا شخص ہے جس کی پیروی کی جاتی ہے اور وہ یہ ظاہر کرنے کے لئے زاد سفر لیتا ہے کہ یہ جائز ہے اور پھر اس سے کسی مسلمان یا کمزور کی مدد کی نیت کرتا ہے یا پھر کسی بھی نیتِ خیرسے زاد راہ اختیار کرتا ہے تو اُسے زادِراہ لینا افضل ہے اور اگر کوئی شخص تنہا ہے اور دل سےاللہ عَزَّ وَجَلَّ پرتوکل مضبوط ہےاوراسےاندیشہ ہےکہ زادراہ اسےعبادت سےغافل کر دے گا تو اس کا نہ لینا افضل ہے۔
غفلت کی وجوہات:
مختصر یہ کہ اکثر مخلوق کے لئے رزق کا معاملہ بہت بڑی آزمائش ہے، جس میں انہوں نےاپنی جانوں کو تھکا دیا، دل مصروف ہو گئے ، رنج وغم اور فکریں بڑھ گئیں، لوگوں نے اس میں اپنی عمریں ضائع کر دیں، اپنی زندگی کا توشہ دان بڑا سمجھ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّکےدروازے