تواس سے مراد آخرت کا توشہ ہےاسی وجہ سے ارشاد فرمایا کہ ’’بہتر توشہ پرہیزگاری ہے‘‘ یہ نہیں فرمایا کہ ’’دنیا کا مال ہے۔‘‘یہ بھی منقول ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کے ساتھ خاص ہے جو حج کو جاتے تھے تو زادراہ ساتھ نہیں لیتے تھے بلکہ لوگوں سے مانگتے اور انہیں تنگ کرتے تھے لہٰذاانہیں حکم دیا گیا کہ”اپنا توشہ ساتھ لو۔“ یہ اس بات پر تنبیہ ہے کہ اپنا مال ساتھ لینا لوگوں سے مال لینے اور انہیں مجبور کرنے سے بہتر ہے۔
زادِراہ میں نیت کیا ہو؟
مذکورہ گفتگو کاخلاصہ یہ ہے کہ متوکل اگرزادراہ اختیار کر بھی لے تو اسے چاہیے کہ اپنے دل کو اس میں نہ لگائے اور نہ یہ سمجھے کہ یہی زادراہ میرا رزق ہے اور اسی کے ساتھ میری بقا وابستہ ہے بلکہ وہ اپنے دل کو اللہ عَزَّ وَجَلَّسے لگائے اور اسی پر بھروسا کرتے ہوئے کہے:”رزق تقسیم ہو چکا اور قَلمِ قدرت اسے لکھ کر فارغ ہو گیا ربّ تعالیٰ چاہے تو اسی رزق کو میری بقا کا ذریعہ بنائے یا کسی اورشے کو۔“ یا پھر اس نیت سے زادِ راہ اختیار کرے کہ اس سے کسی مسلمان کی مدد کرے گایا کوئی بھی اچھی نیت کر لے۔
زادِ راہ لینا جائز مگر۔۔۔!
سفرکےلئےزادراہ ساتھ رکھنےیانہ رکھنےمیں اصل معاملہ دل کاہے۔سَیِّدُالْمُتَوَکِّلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم،حضرات ِ صحابَۂ کرام اوردیگربزرگان دین عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننےبھی زادسفر اختیار فرمایا ہے، یہ بتانے کے لئے کہ سفر کے لئےتوشہ لیناحرام نہیں جائزہے،حرام تویہ ہےکہاللہ عَزَّ وَجَلَّپرتوکل چھوڑکرتوشےدان پربھروسا کر لیاجائے۔ پھرذرایہ بتاؤکہاللہ عَزَّ وَجَلَّنےاپنےپیارےرسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسےارشادفرمایا: