Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
111 - 274
 اورعذاب ہے۔کیاتم نہیں دیکھتےکہاللہ عَزَّ وَجَلَّنےاپنی کتاب میں ثواب اورعذاب کو بندے کے فعل کے ساتھ معلّق فرمایا ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَلَوْ اَنَّ اَہۡلَ الْکِتٰبِ اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوْا لَکَفَّرْنَا عَنْہُمْ سَیِّاٰتِہِمْ وَلَاَدْخَلْنٰہُمْ جَنّٰتِ النَّعِیۡمِ ﴿۶۵﴾(پ۶،المآئدة:۶۵)
ترجمۂ کنزالایمان:اوراگرکتاب والےایمان لاتے اورپرہیزگاری کرتےتوضرورہم ان کےگناہ اُتار دیتےاورضرورانہیں چین کےباغوں میں لےجاتے۔
ایک سوال اور اس کا جواب:
	اگریہ کہاجائےکہ”ہم دیکھتےہیں کہ کوشش کرنےوالےرزق اورمال پالیتےہیں جبکہ کوشش نہ کرنے والے محروم اور محتاج رہتے ہیں؟“تو ہم جواب میں کہیں گےکہ یہ رزّاق عَزَّ  وَجَلَّ کی تقسیم ہے،کوشش کرنایانہ کرناکوئی سبب نہیں۔کتنےہی ایسےہیں جوکوشش کرتے ہیں مگرتم انہیں  محروم ومحتاج دیکھتے ہو اور کئی فارغ لوگوں کو غنی ومالدار دیکھتے ہو بلکہ یہ زیادہ ہی ہوتے ہیں اوریہ اس لئے کہ معلوم ہو جائے کہ  یہ زبردست  علم والے کی تقسیم اور حکمت والے بادشاہ کی تدبیر ہے۔
قلبی قوت اور کامل یقین :
 	اگرتجھےقلبی قوّت اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکےوعدےپرکامل یقین ہےتوبغیرزادراہ کےصحراء میں نکل جااوراگرایسانہیں ہےتوعوام کی طرح ہوجاجوگزربسرکےذرائع سےجُڑے رہتے ہیں۔پس جواللہ عَزَّ وَجَلَّکےساتھ لوگوں کی عادت کےمطابق چلےاللہ عَزَّ وَجَلَّبھی اس کے ساتھ لوگوں کی عادت کے مطابق معاملہ فرماتا ہے۔ رہایہ فرمانِ باری تعالیٰ:
وَتَزَوَّدُوۡا فَاِنَّ خَیۡرَ الزَّادِ التَّقْوٰی۫ (پ۲،البقرة:۱۹۷)
ترجمۂ کنزالایمان:اورتوشہ(سفرکاخرچ)ساتھ لوکہ سب سے بہتر توشہ پرہیزگاری ہے۔