Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
110 - 274
	اسےسمجھنےکےلئےتمہیں اتناکافی ہےکہ حضرات انبیائےکرامعَلَیْہِمُ السَّلَاماور متوکلین اولیائے عظام عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن نے اکثر اور عام طور پر رزق کی تلاش نہیں فرمائی اور خود کو عبادت کے لئے فارغ رکھااور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ انہوں نے  ایسا کرکے اللہ  عَزَّ   وَجَلَّکاکوئی حکم ترک کیا نہ اس کی نافرمانی کی۔
ایک اشکال کا جواب:
	 اب یہ نہیں کہا  جاسکتا کہ ثواب وعذاب بھی تو لوح محفوظ میں لکھا ہوا اور مقدر ہوچکاہےپھرہم پران کی طلب کیوں ضروری ہے(کہ ثواب والےاعمال کریں اور عذاب والے چھوڑیں)؟اس کی وجہ یہ ہےکہاللہ عَزَّ وَجَلَّنےہمیں اس کا حکم حتمی طور پردیا ہے اورحکم ترک کرنےپرعذاب کاڈرسنایاہےاوراس نےبغیرعمل کئے ہمیں ثواب دینے کی ضمانت نہیں لی بلکہ ثواب یا عذاب کی زیادتی بندے کےفعل کے ساتھ جُڑی ہوئی ہے اور لوحِ محفوظ میں لکھے ہوئے کی دواقسام ہیں:(۱)…ایک قسم مطلق لکھی ہے اور اُسےبندےکےفعل پرمعلق نہیں رکھاگیااوروہ رزق اورموت ہےکیا تم نہیں دیکھتے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنےرزق اورموت کوبغیرکسی شرط کےمطلق رکھا،چنانچہ ارشادفرماتاہے:
وَمَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرْضِ اِلَّا عَلَی اللہِ رِزْقُہَا(پ۱۲،ھود:۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمّۂ کرم پر نہ ہو۔
	اورارشاد فرماتا ہے:
فَاِذَا جَآءَ اَجَلُہُمْ لَا یَسْتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّلَا یَسْتَقْدِمُوۡنَ﴿۳۴﴾(پ۸،الاعراف:۳۴)
ترجمۂ کنزالایمان:توجب ان کاوعدہ آئےگا ایک گھڑی نہ پیچھے ہو نہ آگے۔
	(۲)…دوسری  قسم وہ ہے جو بندے کے فعل کے ساتھ معلّق ومشروط ہے اور وہ ثواب