تصوُّف میں عبادت اورریاضت تہذیْبِ اَخلاق و تزکیۂ نفس یہی کام ہوتے ہیں اس سےاندازہ لگایاجاسکتاہےکہ صوفی کس قدرعلم وعمل کی دولت سےمالامال ہوتاہےپھر اعمال جتنےبھی کرلئےجائیں اگراخلاص نہ ہوتوقبول نہیں ہوتے،حدیث شریف میں ہے:
’’اِنَّمَاالْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتکہ اعمال کادارومدارنیتوں پرہے۔‘‘(1) اور’’اِنَّ اللهَ لَايَنْظُرُ اِلٰی اَجْسَادِ کُمْ وَلَااِ لٰی صُوَرِکُمْ وَلٰكِنْ يَّنْظُرُ اِلٰی قُلُوْبِكُمْ وَاَعْمَالِكُمْکہاللہتعالیٰ تمہارےجسموں اورچہروں کی طرف نظرنہیں فرماتاوہ توتمہارےدلوں اوراعمال پرنظرفرماتاہے۔‘‘(2)ان دونوں حدیثوں سےیہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہےکہ بغیراخلاص کےعبادت ہرگزقبول نہیں ہوتی بلکہ ریاکاری پر تو سخت گناہ اور عذاب کی وعیدیں احادیْثِ مبارکہ میں بیان ہوئی ہیں۔
’’مِنْہَاجُ الْعَابِدِیْن‘‘امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیکی انتہائی تحقیقی اورعُلَماوصُلَحامیں بےحد مقبول کتاب ہے،قبلہ امیراہلسنّت میرےپیرومُرشدحضرت علامہ مولاناابوبلال محمدالیاس عطّاؔرقادری رضویدَامَتْ بَرَکَاتُھُمُ الْعَالِیَہتمام مُہْلِکات بالخصوص باطنی گناہوں سے چھٹکارے پربہت زوردیتے ہیں اورحضرت سیِّدُنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیکی شخصیت کی اوران کی کتابوں کی بہت قدرکرتے ہیں یہی وجہ ہےکہ وقتًافوقتًا’’اِحْیَاءُ الْعُلُوْم‘‘اور’’کیمیائے سعادت‘‘ اور’’مِنْہَاجُ الْعَابِدِیْن‘‘پڑھنےکی ترغیب دیتےہیں اورپڑھنےوالوں کی خوب حوصلہ اَفزائی فرماتےہیں فقیرجب ابتداءً دعوتِ اسلامی کے ماحول سےوابستہ ہواتھا1993ءمیں کم عُمْری ہی میں اسلامی بھائیوں کی زبانی اس اہم کتاب ’’مِنْہَاجُ الْعَابِدِیْن‘‘کی اہمیت کاپتاچل گیاتھا کچھ ہی عرصےبعد پوری کتاب پڑھنے کی سعادت ملی اور اس کتاب کی اہمیت کا دل سے یقین
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…بخاری، کتاب بدء الخلق، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللّٰہ، ۱/۵، حدیث:۱
2…مسلم،کتاب البروالصلة،باب تحریم ظلم المسلم…الخ، ص۱۳۸۷،حدیث:۲۵۶۴