Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
109 - 274
 بس کی بات نہیں کیونکہ یہ بندےکےساتھاللہ  عَزَّ وَجَلَّکاایک فعل ہےجیسےموت اورزندگی اوراُسے حاصل کرنا یا ٹالنا بندے کی قدرت میں نہیں ۔البتہ! رزقِ مقسوم کو بندہ تلاش کر سکتاہےمگربندےپراس کی طلب لازم نہیں کیونکہ بندہ اس کامحتاج نہیں،اس کی ضرورت توصرف رزقِ مضمون ہےاوروہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی جانب سےہےاوراسی کےذِمّۂ کرم پرہے۔رہا یہ فرمانِ باری تعالیٰ:
وَ ابْتَغُوۡا مِنۡ فَضْلِ اللہِ (پ۲۸،الجمعة:۱۰)		ترجمۂ کنزالایمان:اوراللہکافضل تلاش کرو۔
	اس سےمرادعلم اورثواب تلاش کرناہےاورایک قول یہ ہےکہ یہاں رخصت مراد ہے یعنی تلاشِ رزق مباح ہے، واجب ولازم نہیں ۔
رِزقِ مضمون کے اَسباب:
	ہاں رزقِ مضمون کےاسباب تلاش کرسکتےہیں لیکن تم پرکوئی سبب تلاش کرنا واجب نہیں کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکوئی کام سبب اوربلاسبب دونوں طرح کرتا ہے اورساتھ ہی ساتھ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے تمہارے لئے جورزق کا ذِمّہ لیاہےاس میں تلاش کرنے یا کمانے کی شرط نہیں لگائی ،چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَمَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرْضِ اِلَّا عَلَی اللہِ رِزْقُہَا(پ۱۲،ھود:۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمّۂ کرم پر نہ ہو۔
	پھرکہاجاسکتا ہے کہ بندے کو ایسی شے تلاش کرنے کا حکم دیناکیونکر درست ہوگا جس کی جگہ کا اسے پتا ہی نہ ہو کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ کس سبب سے اُسے رِزْق حاصل ہوگا یا یہ شے میری غذا ہے اور میری نشوونما اسی سے ہوگی ؟ الغرض ہم میں سے کوئی بھی اُس سبب کو نہیں جانتا کہ وہ اُسے کہاں سے حاصل ہوگا لہٰذاکسی کو اس کا پابند کرنا درست نہیں ۔