مقررہ سے پہلے مل سکتا ہے نہ اس سے مُؤَخَّر ہو سکتا ہے۔
حضور نبی اکرم،رسولِ مُحْتَشَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”رزق تقسیم ہوچکااورقلم اسےلکھ کر فارغ ہوگیااب کسی پرہیزگارکی پرہیزگاری اسےزیادہ نہیں کر سکتی اورنہ کسی فاسق وفاجر کا فسق وفجور اسے کم کر سکتا ہے۔“(1)
لہٰذاضروری ہےکہ تمہارادل مضبوطی سےاس پرقائم ہوجائےکہ میرےجسم وڈھانچے کو باقی رکھنے، میری حاجات کو پورا کرنے اور ہر تنگی وتکلیف سے بچانے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّہی ہے کوئی اور نہیں ہے نہ ہی دنیا کا سامان اور نہ کوئی اور سبب۔ اب اللہ عَزَّ وَجَلَّکی مرضی ہے کہ وہ کسی سامان یا مخلوق کوتیرے لئے سبب بنادے یا چاہے تو بغیر اسباب وذرائع کے اپنی قدرت سے تجھے کافی ہو۔
جب ان باتوں کو تم دل سے سمجھ لو پھر تمہارا دل ان پر مضبوطی سے قائم ہو جائے اور مخلوق اوراسباب سےبےنیازہوکراللہ عَزَّ وَجَلَّکی جانب مائل ہوجائےتوسمجھوتمہیں توکل کی دولت نصیب ہو گئی۔
توکل پیدا کرنےوالے اُمور:
توکل پیداکرنےوالےاموریہ ہیں کہ بندہاللہ عَزَّ وَجَلَّکےذِمّۂ کرم،اس کی جَلالت اورعلم وقدرت میں اس کے کمال کا تصوّر کرےاور یقین رکھے کہ وہ ذات مخلوق سے بےنیاز اورعجز،نقص اوربھول سےپاک ہےجب بندہ ہمہ وقت ان باتوں کویادرکھےگاتویہ اس کے دل میں رزق کے معاملے میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ پر توکل پیدا کریں گی۔
پھر رزقِ مضمون یعنی وہ غذا جس سے انسانی بدن کا قیام ہے اسے تلاش کرنا کسی کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…المجروحین لابن حبان،۲/۴۸۶،رقم:۱۲۲۸،یوسف بن السفر۔المقاصدالحسنة،ص۱۲۱،تحت الحدیث:۲۲۴