Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
107 - 274
 ہیں اوران میں سےدوکےعلاوہ سب کےچہرےقبلےسےپھرےہوئےتھے۔آپرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہنےفرمایا:رزق کےمعاملےمیں بدگمانی نےان مسکینوں کےچہرےقبلےسےپھیر دیئے۔
توکل کا معنیٰ ومفہوم:
	توکل کالغوی معنیٰ یہ ہےکہ  دوسرےکواپنےمعاملات کی انجام دہی کاوکیل بنانا،توکل کااطلاق اُس پربھی ہوتاہےجواِس کی اصلاح کی ذمہ داری اٹھائےاوربغیرکسی تکلف واہتمام کےاسے کافی ہو جبکہ یہاں توکل سے مراداِس بات کا یقین رکھنا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جو تیرے لئے حصہ رکھا ہے وہ تجھے مل کر رہے گا کیونکہ اس کا حکم تبدیل نہیں ہوتا اوریہ بندے پر فرض ولازم ہے پس اُس پر واجب ہےکہ اپنے معاملات اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سپرد کر دے ، اس پربھروسا رکھے اور یہ یقین رکھے کہ میرے لئے جتنا رزق اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے ذمَّۂ کرم پر لیا ہے وہ مجھے مل کر رہے گا۔
رِزقِ مضمون اور رزِقِ مقسُوم:
	رِزْقِ مضمون سے مراد غذا اورہر وہ شے ہے جس سے انسان کا بدن قائم رہے، تمام اَسباب مراد نہیں (اور اسی کی ذمہ داری اللہ   عَزَّ   وَجَلَّ نے اپنے ذمَّۂ کرم پر لی ہے) اور جوبدن کو قائم رکھنے سے زائد ہو وہ رزقِ مقسوم ہے اوررزقِ مضمون میں توکل کے واجب ہونے پر عقل اور شرع دونوں ہی دلالت کرتے ہیں کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ہمیں ہمارے بدنوں سے اپنی عبادت واطاعت کاپابندفرمایا تواُس نے ہمارے بدنوں کو قائم رکھنے والی چیز کا ذمہ بھی لیاتاکہ ہم اس کی عبادت بجا لاسکیں۔ پھر رزقِ مقسوم سے مراد وہ ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ہر ایک کے لئے تقسیم فرما دیا اور لوحِ محفوظ میں لکھ دیا گیا، اس میں کھانا، پینا اور پہننا وغیرہ سب شامل ہے، ہر ایک کی مقدار اور وقت مقرر ہے، نہ اس سے بڑھ سکتا ہے نہ کم ہو سکتا ہے، وقتِ