حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں: اللہ عَزَّ وَجَلَّکی لعنت ہو ایسے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……فرمانِ مصطَفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے:’’دُنیا میں یُوں رہ گویا تُومسافربلکہ راہ چلتاہےاوراپنےآپ کوقبرمیں سمجھ کر صبح کرے تو دل میں یہ خیال نہ لاکہ شام ہوگی اور شام ہوتو یہ نہ سمجھ کہ صبح ہوگی۔ ‘‘
(تِرمِذی،کتاب الفتن،باب ماجاء فی قصرالامل، ۴/۱۴۹،حدیث:۲۳۴۰،دارالفکربیروت)
سلطانِ مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےایک موقع پرارشادفرمایا:یَااَیُّہَاالنَّاسُ اَمَاتَسْتَحْیُوْنَاے لوگو! کیا تمہیں شرم نہیں آتی؟حاضِرین نےعَرض کی:یارسولَ اللہ!کس بات سے؟فرمایا:جَمع کرتےہوجونہ کھاؤ گے اورعمارت بناتےہوجس میں نہ رہوگےاوروہ آرزُوئیں باندھتےہوجن تک نہ پہنچوگےاس سےشرماتے نہیں۔
(معجم کبیر،۲۵/۱۷۲،حدیث:۴۲۱ ، داراحیاء التراث العربی بیروت)
حضرتِ سیِّدُنااُسامہ بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےایک مہینےکےوعدےپرایک کنیزسَودینارکوخریدی، رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:کیا اُسامہ سے تعجُّب نہیں کرتے جس نے ایک مہینے کے وَعدے پر(کنیز) خریدی،بیشک اُسامہ کی امّید لمبی ہے ،قسم اس کی جس کےہاتھ میں میری جان ہے !میں توجب آنکھ کھولتا ہوں یہ گُمان ہوتا ہے کہ پلک جھپکنے سے پہلے موت آجائیگی اور جب پِیالہ منہ تک لے جاتا ہوں کبھی یہ گمان نہیں کرتا کہ اس کے رکھنے تک زندہ رہوں گا اور جب کوئی لقمہ لیتا ہوں گمان ہوتاہے کہ اسے حَلق سے اُتارنے نہ پاؤں گا کہ موت اُسے گلے میں روک دے گی، قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بیشک جس بات کاتمہیں وعدہ دیاجاتاہےضَرورآنےوالی ہےتم تھکانہ سکوگے۔(الترغیب والترھیب،کتاب التوبةو الزھد،الترکیب فی ذکرالموت…الخ،۴/۱۰۸، حدیث:۵۱۲۷ ،دارالفکربیروت)
یہ سب( تو) مُنْفَرِدکا بیان(ہے )رہا عِیا ل دار(تو)ظاہِرہےکہ وُہ اپنےنَفس کےحق میں’’مُنْفَرِد ‘‘ہے،توخود اپنی ذات کے لیے اُسے اُنہِیں اَحکام کا لحاظ چاہئے اورعِیال کی نظر سے اُس کی صورَتیں اور ہیں ان کابیان کریں۔
)12(…عِیال کی کَفالَت شَرع نےاِس پرفَرض کی،وہ ان کوتَوَکُّل وتَبَتُّل(دنیا سے کَنارہ کشی)وَ صَبْرْعَلَی الْفاقَہ (یعنی اوربھوک پیاس سے صَبر) پرمجبورنہیں کرسکتا،اپنی جان کوجتناچاہے کُسے(یعنی آزمائش میں ڈالے)مگراُن(یعنی بال بچّوں)کو خالی چھوڑنا اس پر حرام ہے ۔
)13(…وہ جس کی عِیال میں صورت چہارُم کی طرح بےصبرا ہو اور بے شک بَہُت عوام ایسے نکلیں گے تو اس کے لحاظ سے تو اس پر دوہرا وُجُوب ہوگا کہ قَدَرِ حاجت جَمع رکھے ۔
)14(…ہاں جس کی سب عِیال(یعنی بال بچّے)صابِرومُتَوَ کِّل ہوں اُسےرَوا (جائز )ہوگاکہ سب (مال)راہِ خدا میں خَرچ کردے۔ (فتاوٰی رضویہ،۱۰/۳۱۱تا۳۲۷ ،مختصرا)