مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……ہے)کہ اگر(ساراہی مال)خَرچ کردےمُحتاجِ کَسب(یعنی کام کاج کرنےکامحتاج)ہواوران اُمُور(یعنی ان دینی فریضوں کی ادائیگی) میں خَلَل پڑے،اس پربھی اَصل ذَرِیعےکااِبقا(یعنی باقی رکھنا)اورآمَدَنی کابَقَدرِمذکورجَمع رکھنا واجِب ہے۔
)6(…اگروہاں اوربھی عالِم یہ کام کرسکتےہوں تواِبقاء وجمْعِ مذکور(حسبِ ضَروت مال جمع کرنا اور مال کے ذرائِع باقی رکھنا) اگر چِہ واجِب نہیں مگراَہَم و مُؤَکَّدْ(سخت تاکید کیا ہوا)بیشک ہےکہ عِلمِ دین و حمایتِ دین کےلیےفَراغ بال( یعنی خوشحالی)،کَسبِ مال(یعنی مال کمانے)میں اِشتِغال(یعنی مشغول ہونے)سےلاکھوں درجے افضل ہے مَعہٰذ ا( یعنی اسی کے ساتھ )ایک سےدواوردوسےچاربھلےہوتےہیں،ایک(عالِم)کی نظرکبھی خطا کرے تو دوسرے (عُلَماء) اُسے صَواب (یعنی صحیح بات)کی طرف پھیردیں گے،ایک(عالم)کو مرض وغیرہ کےباعث کچھ عُذر پیش آئے تو جب اور(عُلماء) موجود ہیں کام بند نہ رہے گا لہٰذا تَعَدُّدِ عُلَمائے دین(علمائے دین کی کثرت) کی طرف ضَرور حاجت ہے۔
)7(…عالِم نہیں مگر طلَبِ عِلمِ دین میں مشغول ہے اورکَسب میں اِشتِغال( مال کمانے میں مشغول ہونا ) اُس (یعنی عِلمِ دین کی طلب)سے مانِع (یعنی روکنے والا) ہوگا تو اس پر بھی اُسی طرح اِبقاء و جمع مَسطُورآکد واَہَم ہے(یعنی اس کے لئے بھی حسبِ ضَرورت مال جمع کرنا اور مال کے ذارئِع کو باقی رکھنابَہُت اَہَم وضَروری ہے )۔
)8(…تین صورَتوں میں جَمع مَنع ہوئی، دومیں واجِب ، دو میں مُؤَکَّدْ (یعنی تاکیدی اور )جوان آٹھ(قِسموں) سے خارِج ہو، وہ اپنی حالت پرنظرکرےاگر جَمع نہ رکھنےمیں اس کاقَلب پریشان ہو،تو جُّہ بَعبادت و ذِکرِ الہٰی میں خَلَل پڑے تو بمعنیٔ مذکوربَقَدرِ حاجت جَمع رکھنا ہی افضل ہے اور اکثر لوگ اِسی قسم کے ہیں۔
)9(…اگرجَمع رکھنےمیں اس کادل مُتَفَرِّق(یعنی مُنتَشِر)اورمال کےحفِظ(یعنی حفاظت)یااس کی طرف مَیلان(جُھکاؤ) سےمُتَعلِّق ہوتوجمع نہ رکھنا ہی افضل ہے کہ اَصل مقصود ذِکرِالہٰی کےلیے فَراغ بال(فارِغ ہونا) ہے جواُس میں مُخِل( خلل ڈالنے والا) ہو وُہی ممنوع ہے۔
)10(…جواصحاب نُفُوسِ مُطْمَئِنَّہ(یعنی اہْلِ اطمینان)ہوں،(کہ)نہ عَدَمِ مال(مال نہ ہونے)سےاُن کادل پریشان (ہو) نہ وُجُودِ مال (یعنی مال ہونے)سےاُن کی نظر(پریشان ہو)،وہ مُختارہیں(یعنی بااختیارہیں کہ چاہیں تو بقیہ مال صَدَقہ وخیرات کر دیں یا اپنے پاس ہی رکھیں )۔
)11(…حاجت سے زیادہ کا مَصارِفِ خیر(یعنی اچّھی جگہوں) میں صَرف(خَرچ)کردینااورجَمع نہ رکھنا صورتِ سِوُم میں توواجب تھاباقی جُملہ صُوَر(یعنی دیگر تمام صورَتوں)میں ضَرورمطلوب(یعنی پسندیدہ)،اورجوڑکر(یعنی جمع)رکھنا اس کےحق میں ناپسند ومَعیوب کہ مُنْفَرِد کو اس کا جوڑنا طولِ اَمَلَ(یعنی لمبی اُمّید)یاحُبِّ دُنیا(یعنی دنیا کی مَحَبَّت) ہی سے ناشِی
(یعنی پیدا)ہوگا۔(مطلب یہ کہ مال جمع کرنا لمبی اُمّید یا دُنیا سے مَحَبَّت ہی کی وجہ سے ہوگا اور یہ دونوں صورتیں اچّھی نہیں ہیں) …☜