مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
پراپنےنفس(یعنی اپنی ذات)کے لحاظ سے وُہی اَحکام ہیں جو مُنْفَرِدپرہیں لہٰذادونوں کے اَحکام سے بَحث درکار۔
)1(…وہ اَہْلِ اِنْقِطَاع وَتَبَتُّل اِلَی اللّٰہ اَصْحابِ تَجْرِیْدوَتَفْرِیْد(یعنی ایسےلوگ جنہوں نےاللہعَزَّ وَجَلَّکی خاطِردنیا سے کَنارہ کَشی اختیارکر لی ہو اوران پراہل وعِیال کی ذمّے داری نہ ہو یا انکے اہل و عِیال ہی نہ ہوں )جنھوں نے اپنے رب سے کچھ(مال)نہ رکھنے کا عَہدباندھا(وعدہ کیا )ان پراپنے عَہْد کے سبب تَرکِ اِدّ ِخار(یعنی مال جمع نہ کرنا )لازِم ہوتا ہے اگرکچھ بچارکھیں تونَقْضِ عَہْد(یعنی وعدہ خِلافی) ہےاوربعدِعہدپھرجَمع کرناضَرور ضُعْفِ یقین سےنَاشِیٔ (یعنی یقین کی کمزوری کی وجہ سے ہے)یا اُس کامُوْہِمْ(یعنی وہم ڈالنےوالا)ہوگا،ایسے(حَضرات)اگرکچھ بھی ذَخیرہ کریں مستحِقِ عِقاب (یعنی سزاکےحق دار) ہوں۔
)2(…فَقروتوکُّل ظاہِرکرکےصَدَقات لینےوالااگریہ حالت مُستَمِر(مُسْ۔ت َ۔مِرْیعنی برقرار) رکھناچاہےتواُن صَدَقات میں سے کچھ جمع کر رکھنااُسے ناجائز ہوگا کہ یہ دھوکا ہوگااوراب جوصَدَقہ لے گا حرام و خبیث ہوگا۔
)3(…جسےاپنی حالت معلوم ہوکہ حاجت سےزائد جو کچھ بچا کررکھتا ہے نَفس اُسے طُغیان وعِصیان(یعنی سرکشی ونافرمانی)پرحامِل ہوتا(یعنی اُبھارتا)،یاکسی مَعصِیَت(یعنی نافرمانی)کی عادت پڑی ہےاُس میں خَرچ کرتاہے تو اُس پرمَعصیَت سےبچنافرض ہےاورجب اُس کایہی طریقہ مُعَیَّن (م ُ۔عَیْ۔یَنْ یعنی مُقرَّر)ہوکہ باقی مال اپنے پاس نہ رکھےتو اِس حالت میں اس پر حاجت سے زائد سب آمَدَنی کو مَصارِفِ خَیر(یعنی بھلا ئی کے کاموں) میں صَرف کر دینا لازِم ہوگا۔
)4(…جوایسابےصَبراہوکہ اگراُسےفاقہ پہنچےتومَعَاذَاللہربعَزَّ وَجَلَّکی شکایت کرنےلگےاگر چِہ صِرف دل میں،نہ زَبان سے،یا طُرُقِ ناجائزہ(یعنی ناجائز طریقوں)مِثْلِ سَرِقہ(سَ ۔رِ۔قَہ یعنی چوری)یا بھیک وغیرہ کامرتکِب ہو، اس پرلازِم ہےکہ حاجت کے قَدَرجَمع رکھے، اگر پیشہ وَر ہےکہ رَوزکارَوزکھاتاہے،توایک دن کا،اورملازِم ہے کہ ماہوارملتاہےیامکانوں دکانوں کے کرائے پر بسر ہے کہ(کرایہ) مہینہ پیچھےآتا ہے، تو ایک مہینے کا اور زمیندار ہے کہ فصل(چھ ماہ) یا سال پر پاتا ہے تو چھ مہینےیا سال بھر کااوراصل ذَرِیعَۂ مَعاش مَثَلاًآلاتِ حرفَت( یعنی کام کے اَوزار)یا دکان مکان دیہات بَقَدرِ کِفایت کا باقی رکھنا تو مُطلَقًااس پر لازِم ہے۔
)5(…جوعالِمِ دین مُفتِیٔ شَرع یا مُدافِعِ بِدع (بد مذ ہبیت کوروکنے والا)ہواوربیْتُ المال سے رِزق نہیں پاتا،جیسا(کہ اب)یہاں ہے،اوروہاں اس کاغیر(یعنی کوئی دوسرا)ان مَناصبِ دِینیہ(یعنی دینی مَنصَبوں )پرقِیام نہ کرسکےکہ اِفتا (فتویٰ دینے)یا دَفِعِ بِدعات میں اپنےاَوقات کاصَرف کرنااس پرفرضِ عَین ہواوروہ مال و جائدادرکھتاہےجس کے باعث اُسےغَنا(مالی طورپرمضبوطی)اوران فرائِضِ دِینیہ کےلیےفارِغُ البالی ہے(یعنی روزگاروغیرہ سےبےفکری…☜