اس کے ذِمّہ لینے اور اس کی قسم پر مطمئن نہ ہو پھر اس کے وعدے، وَعِید اور حکم کی کوئی پروا نہ کرے تو دیکھو کہ اس کا کیا حال ہوتا ہے اور کس مصیبت میں پھنستا ہے۔ خدا کی قسم! یہ بہت بڑی آفت ہے اور ہم اس سے انتہائی غافل ہیں۔
یقین کی کمزوری:
باذن پروردگار،غیبوں پرخبردارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا ابن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےارشادفرمایا:”اس وقت تمہاری کیا حالت ہوگی جب تم ایسے لوگوں کے درمیان ہو گے جو یقین کی کمزوری کے باعث سال بھر کا رزق جمع کریں گے(1)۔“(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…اخلاق النبی وآدابہ،باب فی زھدہ ،ص۱۵۹،حديث:۸۳۱
2…دعوتِ اسلامی کےاشاعتی ادارےمکتبۃ المدینہ کےمطبوعہ39صفحات پرمشتمل رسالہ’’خزانےکے انبار‘‘
صفحہ29 تا 36پرشیخ طریقت،امیراہلسنّت،بانِیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضویدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہمال جمع کرنےکےحوالے سےکچھ یوں تحریرفرماتےہیں:میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو!مال جمع کرنےنہ کرنےکی صورتوں کےمتعلّق بارگاہِ رضویت میں ہونےوالے’’سُوال وجواب‘‘کےمختلف اِقتباسات پیش کرتا ہوں،اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّآپ کی معلومات میں بےحداِضافہ ہوگا۔سُوال:ایک شخص جواَہل و عِیال (یعنی بال بچّے) رکھتا ہے اپنی ماہانہ یا سالانہ آمدنی سے بِلا اِفراط وتَفرِیط(یعنی بِغیر کمی وزِیادَتی کے) اپنے بال بچّوں پرخَرچ کر کے بقایا خدا کی راہ میں دیتا ہے آئِند ہ کو اَہل وعِیال کے واسِطے کچھ نہیں رکھتا، دوسرا اپنی آمدنی سے بچّوں پرایک حصّہ خَرچ کرکے دوسرا حصّہ خیرات کرتا اور تیسرا حصّہ آئندہ انکی ضَرورتوں میں کام آنے کی غَرَض سے رکھ چھوڑنےکواچّھاجانتاہے،ان دونوں میں افضل کون ہے؟الجواب:حُسنِ نیّت( یعنی اچّھی نیّت)سےدونوں صورَتیں مَحمود(بہت خوب)ہیں اوربَاِختِلافِ اَحوال(یعنی حالات مختلِف ہونےکی وجہ سے)ہرایک(کبھی)افضل،کبھی واجِب،وَلہٰذا اس بارے میں احادیث بھی مختلف آئیں اور سَلَفِ صالِح (یعنی بزرگانِ دین ) کاعمل بھی مختلِف رہا۔
اَقُوْلُ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیق(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی توفیق سےمیں کہتاہوں)اس میں قَولِ مُوْجَزوجَامِع (یعنی مختصر وجامِع قول ) اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّیہ ہےکہ آدَمی دوقسم(کے)ہیں:(۱)مُنْفَرِِدکہ تنہاہواور(۲)مُعِیْل کہ عِیال(یعنی بال بچّےوغیرہ) رکھتاہو،سُوال اگرچِہ مُعِیْل سےمُتَعلِّق ہےمگر ہرمُعِیْل اپنےحَقِّ نفس(یعنی خوداپنے بارے)میں مُنْفَرِِداوراس…☜