Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
101 - 274
	یہ دلیل ہے کہ  پیدا کرنے کی طرح رزق بھیاللہ عَزَّ وَجَلَّکی جانب سے ہے  کسی اور کی طرف سے نہیں، پھراسی پراِکتفا نہیں فرمایا بلکہ رزق دینے کا وعدہ بھی کیا ،ارشادِ ربانی ہے:
اِنَّ اللہَ ہُوَ الرَّزَّاقُ(پ۲۷،الذٰریٰت:۵۸)	ترجمۂ کنز الایمان:بےشکاللہہی بڑارزق دینے والا ۔
	پھر وعدے پر اِکتفا نہیں فرمایا بلکہ اپنے ذِمَّۂ کرم پر لیا۔ارشاد فرماتا ہے: 
وَمَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرْضِ اِلَّا عَلَی اللہِ رِزْقُہَا(پ۱۲،ھود:۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللہکے ذمّۂ کرم پر نہ ہو۔
	پھر ذمّہ لینے پر بھی اِکتفا نہیں فرمایا بلکہ قسم ارشاد فرمائی:
فَوَ رَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّہٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّکُمْ تَنۡطِقُوۡنَ﴿٪۲۳﴾(پ۲۶،الذٰریٰت:۲۳)
ترجمۂ کنز الایمان:توآسمان اورزمین کے رب کی قسم بے شک یہ قرآن حق ہے ویسی ہی زبان میں جو تم بولتے ہو۔
	اب ان تمام باتوں پر بھی اِکتفا نہیں فرمایا بلکہ ہمیں ڈرایا اور توکل کرنے کی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
وَ تَوَکَّلْ عَلَی الْحَیِّ الَّذِیۡ لَا یَمُوۡتُ(پ۱۹،الفرقان:۵۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اوربھروسہ کرواس زندہ پر جو کبھی نہ مرے گا۔
	ایک اورمقام پر ارشاد فرمایا:
وَعَلَی اللہِ فَتَوَکَّلُوۡۤا اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ ﴿۲۳﴾ (پ۶،المآئدة:۲۳)
ترجمۂ کنزالایمان:اوراللہہی پربھروسہ کرو اگر تمہیں ایمان ہے۔
	پس جو شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّکے قول پر اِعتبار نہ کرے ،اس کے وعدے کو کافی نہ سمجھے،