جب میں مَکۂ مکرمہ پہنچا تو دیکھا کہ وہ لڑکا طواف کرتے ہوئے یہ اشعار پڑھ رہا ہے:
یَا نَفْسِ سِیْحِی اَبَدَا وَ لَا تُحِبِّیْ اَحَدَا
اِلَّا الْجَلِیْلَ الصَّمَدَا یَا نَفْسِ مُوْتِیْ کَمَدَا
ترجمہ:اےمیرےنفس!ہمیشہ سیروسیاحت میں رہ اوربڑےبےنیازکےسواکسی کواپنا دوست نہ بنا ، اے میرے نفس! غم کو چھپا کر مرجا۔
جب اس لڑکے نے مجھے دیکھا تو کہا: اے شیخ! کیا ابھی تک اسی کمزور یقین پر ہو۔
انوکھا زادِراہ:
حضرت سیِّدُناابومطیععَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَدِیْعنےحضرت سیِّدُناحاتم اصمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سےکہا:میں نےسناہےآپ بغیرزادِراہ کےمحضاللہ عَزَّ وَجَلَّکے بھروسے پر جنگلوں کا سفر کرتےہیں۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:چارچیزیں میرا زادِراہ ہیں۔انہوں نےپوچھا:وہ کون سی؟فرمایا:(۱)…میں دنیاوآخرت کواللہ عَزَّ وَجَلَّکی ملک سمجھتاہوں(۲)…تمام مخلوق کواللہ عَزَّ وَجَلَّ کامحتاج سمجھتاہوں(۳)…تمام رزق اوراسباباللہ عَزَّ وَجَلَّکےقبضےمیں سمجھتاہوں اور (۴)…اللہ عَزَّوَجَلَّکاحکم ساری زمین پر نافذ سمجھتا ہوں ۔
بڑی آفت اور ہماری غفلت:
اللہ عَزَّ وَجَلَّپر توکل کے سبب انسان بڑے خطرے اورنقصان سے سلامت رہتاہے اوروہ خطرہ ہے ضمانَتِ الٰہی کو کافی نہ سمجھنا اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے پیدا کرنے کے ساتھ روزی کو ملاتے ہوئےارشادفرمایا:
خَلَقَکُمْ ثُمَّ رَزَقَکُمْ (پ۲۱،الروم:۴۰) ترجمۂ کنزالایمان:تمہیں پیداکیاپھرتمہیں روزی دی۔