باری تعالیٰ کی بارگاہ میں سچے دل سے جھکنے کا نام، سب سے کٹ کر اسی کا ہوجانے کا نام تصوُّف ہےلیکن یہ کمال اسی صورت میں حاصل ہوتاہےجب علم بھی ہواورعمْلِ صالح بھی جیساکہ اوپر بیان ہوا ہے،جو لوگ40،50 سال تک علم ہی حاصل کرتے رہتے ہیں اعمالِ صالحہ کی پابندی نہیں کرتےصوفیافرماتے ہیں:ان کی مثال ایسےشخص کی سی ہےجووضوکرلےمگر نمازایک رکعت بھی نہ پڑھے،یونہی جو لوگ چرسی موالی بھنگ پینے والے صوفی ہونے کا ڈھونگ رچاتےہیں،مزارات کا تَقَدُّس پامال کرتےہیں،ظاہری اَحکام کےتارِک ہی نہیں، بڑی بےباکی سےعلی الاعلان شریعت کےواضح اَحکامات کی خلاف ورزیاں کرتےہیں بلکہ ایسےکلمات تک منہ سےبکتےہیں جن سےنمازروزہ وغیرہ ضروریاتِ دین کاصاف انکار لازم آتاہےوہ ہرگزصوفی نہیں ان کاتَصَوُّف اوراَہْلُ اللہ(یعنی اللہوالوں)سے دور کابھی واسطہ نہیں وہ کفر و گمراہی کے شیطانی راستے پر چل رہے ہیں اوردوسروں کی گمراہی کاباعث بن رہےہیںاللہتعالٰی ایسوں کےشرسے مسلمانوں کو محفوظ رکھے۔
یاد رہے کہ علم کی مثال درخت کی سی ہے اور عبادت کی مثال اس میں لگنے والے پھل کی طرح ہے چونکہ درخت پہلے ہوتا ہے پھر اس پر پھل لگتا ہے یونہی علم عبادت سے مُقَدَّم اور اس کی صحت کاذریعہ ہوتاہےاسی لئےمعبودِحقیقی کی معرفت اوراس پرایمان اورعبادت کرنےکےشرعی طریقےکاعلم عبادت پر مُقَدَّم ہوتا ہے یونہی گناہوں سے بچنے کے لئے بھی گناہوں کا علم ضروری ہے کہ’’مَنْ لَمْ یَعْرِفِ الشَّرَّ فَیَوْمًا یَقَعُ فِیْہکہ جو برائی کونہیں جانتاتوایک نہ ایک دن اس میں مبتلا ہوجاتا ہے‘‘اسی طرح گناہوں سےتوبہ بھی نیک و صالح بننےکےلئےاولین شرائط میں سےہے بلکہ ساری زندگی توبہ وتقوےکےساتھ بسر کرنااللہ عَزَّ وَجَلَّکےمحبوب بندوں کاطریقہ ہےکہ رجوع اسی کی بارگاہ میں کرنا ہوتاہےاس کےسواکون ہےجس کی جانب لولگائی جائے وہی بندوں کا سچا معبود اور مُحِبِّیْن کا محبوب ہے۔