Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
442 - 4047
حدیث نمبر 442
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ لوگ آگ پر حاضر ہوں گے ۱؎ پھر وہاں سے گزریں گے اپنے اعمال کے مطابق ۲؎  تو ان میں سے اگلے لوگ بجلی کی کوند کی طرح،پھر ہوا کی طرح،پھر گھوڑے کی دوڑ طرح،پھر اس کی طرح جو اپنے کجاوے میں سوار ہو،پھر مرد کی دوڑ کی طرح،پھر اس کے چلنے کی طرح۳؎(ترمذی،دارمی)
شرح
۱؎ اس طرح کہ پلصراط  سے گزریں گے جو جنت کے راستہ میں ہے اور دوزخ پر قائم ہے جیسے ہمارے لیے لاہور کے رستہ پنجاب یا راوی کا پل،چونکہ اس پل پر سے آگ اور وہاں کے تمام احوال نظر آئیں گے اس لیے اس گزرنے کو دوزخ پر وار ہونا فرمایا گیا۔اس کی تائید قرآن مجید کی اس آیت سے ہے"وَ اِنۡ مِّنۡکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا"عربی میں وارد کہتے ہیں پانی پر پہنچنے کو،چونکہ یہ گزرنا حوض کوثر پر پہنچنے کا ذریعہ ہے اس لیے اسے ورود فرمایا۔

۲؎  صدر کے لفظی معنی ہیں لوٹنا مگر یہاں مراد ہے آگے بڑھ جانا وہاں سے گزر جانا کیونکہ جنت وہاں سے آگے ہے پیچھے نہیں،وہاں انکی رفتار اپنے اعمال کے مطابق ہوگی،قربانی دینے والے لوگ اپنی قربانیوں پر سوار ہوں گے مگر ان جانوروں کی رفتار اخلاص کے مطابق ہوگی۔

۳؎  غرضکہ بعض لوگ وہاں سے جلدگزر کر جلد جنت میں پہنچ جاویں گے،بعض لوگ دیر سے گزریں گے اور دیر سے جنت میں پہنچیں گے۔اللہ تعالٰی وہ سفر آسان فرمادے یعنی پل صراط سے آگے جنت کے قریب یا جنت میں حوض کوثر ہے۔
Flag Counter