Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
434 - 4047
حدیث نمبر 434
روایت ہے حضرت مغیرہ  ابن شعبہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مؤمنوں کی علامت  ۱؎  قیامت کے دن صراط پر یہ ہوگی  الٰہی سلامت رکھ سلامت رکھ ۲؎ (ترمذی )اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
شرح
۱؎ مؤمنین سے مراد دوسری امتوں کے مؤمنین لوگ ہیں،اس دن سب کی زبان عربی ہوگی،حضرات انبیاءکرام بھی فرمائیں گے،سلم سلم یعنی مولٰی ان گزرنے والوں کو سلامت رکھ،مؤمن بھی کہیں گے رب سلم اے اللہ ہم کو سلامت رکھ لہذا حضرات انبیاء کا یہ کلام شفاعت ہوگا ان کا یہ کلام اپنے لیے دعا۔کفار گھبرا ئے ہوئے گزریں گے اور پھسل کر گریں گے یہ عرض مؤمنوں کی علامت ہوگی۔

۲؎  خیال رہے کہ دوسری امتوں کے منہ میں رب سلم ہوگا حضور کی امت مؤمنین کی زبان پر لا الہ الا انت ہوگا لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں فرمایا گیا کہ مؤمنین لا الہ الا انت کہتے گزریں گے کیونکہ وہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت مراد ہے اور یہاں دوسری امتیں۔(مرقات)ابن مردویہ میں حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ مؤمنین یہ کہتے ہوئے گزریں گے لا الہ الا انت و علی اللہ فلیتوکل المؤمنون،امام شیرازی نے حضرت ام المؤمنین سے روایت کی کہ مؤمنین اس اندھیری میں کہیں گے لا الہ الا انت۔(مرقات)ہوسکتا ہے کہ مختلف طبقہ کے مؤمنین یہ مختلف دعائیں عرض کریں گے۔
Flag Counter