Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
433 - 4047
حدیث نمبر 433
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں حضور سے عرض کیا گیا کہ مقام محمود کیا چیز ہے فرمایا قیامت وہ دن ہے جس میں اللہ تعالٰی اپنی کرسی پر نزول فرمائے گا تو وہ ایسی چرائے گی جیسے نیا کجاوا چرچراتا ہے اپنی تنگی کی وجہ سے ۱؎  حالانکہ وہ آسمانوں و زمینوں کی فراخی کی طرح ہے۲؎  اورتم کو ننگے پاؤں ننگے بدن بے ختنہ لایا جاوے گا۳؎  تو جنہیں پہلے پہنایا جاوے گا وہ حضرت ابراہیم ہوں گے۴؎ اللہ تعالٰی فرمائے گا میرے خلیل کو پہناؤ تو دو سفید حلے لائے جائیں گے پھر ان کے بعد مجھے پہنایا جاوے گا ۵؎ پھر میں اللہ تعالٰی کے داہنے طرف اس جگہ کھڑا ہوں گا کہ مجھ پر اگلے اور پچھلے رشک کریں گے ۶؎(دارمی)
شرح
۱؎ حق یہ ہے کہ یہ عبارت متشابہات میں سے ہے،کرسی پر اللہ تعالٰی کا نزول اس معنی سے ہے جو وہ ہی جانے۔بعض نے فرمایا کہ اس کے احکام وہاں نازل ہوں گے اور وہاں سے نافذ ہوں گے اور کرسی کا چرچرانا ذات الٰہی کے بوجھ سے نہیں بلکہ ہیبت سے ہوگا۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ یہاں اللہ تعالٰی کے کرسی پر نازل ہونے سے مراد ہے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا اس پر قدم رنجہ ہونا جیسے اگر اولًا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے تو افلاک اور املاک نہ ہوتے،یونہی اگر آخر حضور نہ ہوتے تو ہلاکت لوگوں میں واقع ہوجاتی لہذا حضور اول ہیں،حضور آخر ہیں،حضور باطن ہیں،حضور ظاہر مظہر کل ہیں جس سے ذات جامع صفات جسے اللہ کہتے ہیں وہ ظاہر ہے۔(مرقات)

۲؎  یعنی باوجودیکہ کرسیہ کی وسعت سارے آسمانوں اور زمینوں کے برابر ہے مگر اس دن رب کے عدل یا اس کی حکومت یا اس کے فرشتوں پر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی جلوہ گری کی وجہ سے تنگ ہوجاوے گی۔دوسری جگہ ارشاد ہے کہ اگر سارے آسمان اور زمین کرسی میں رکھے جاویں تو ایسے معلوم ہوں جیسے میدان میں سات چھلے ان دونوں احادیث میں تعارض نہیں کہ مقصود ہے کرسی کی وسعت دکھانا نہ کہ معین کرنا۔

۳؎  بکم فرمانے سے معلوم ہوا کہ یہ پا برہنہ بدن برہنہ یا بے ختنہ ہونا عوام کا حال ہوگا۔حضرات انبیاءکرام خصوصًا سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مستثنٰی ہے۔

۴؎  حضرات انبیاءکرام پر ستر کا لباس تو پہلے ہی ہوگا زینت کا لباس اب ترتیب وار پہنایا جاوے گا اس لیے یہاں لباس کا حسن مذکور ہوا۔

۵؎  یعنی یہ لباس زینت لباس فاخرہ سب سے پہلے حضرت خلیل کو پھر مجھے پہنایا جاوے گا۔خیال رہے کہ یہ حضرت خلیل اللہ کی جزوی فضیلت ہے کلی فضیلت حضور ہی کو حاصل ہے،ہر جگہ اولیت کا سہرہ حضور کے سر ہے جیساکہ قرآن و احادیث سے ثابت ہے اور حضرت خلیل کی یہ عظمت خصوصی بھی اس لیے ہے کہ آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ہیں اور دین اسلام ان کی ملت کے مطابق ہے۔

۶؎  یعنی مقام محمود عرش اعظم کے داہنے طرف ہے وہ خاص ہمارا مقام ہے جس پر سارے انبیاء اولیاء رشک فرمائیں گے۔خیال رہے کہ دینی عظمت پر رشک کرنا اچھی چیز ہے حسد بری چیز۔خیال رہے کہ اس فرمان عالی میں جواب ہوگیا،سائل نے پوچھا تھا کہ مقام محمود کیا چیز ہے جواب عطا ہوا کہ مقام محمود عرش اعظم کے داہنے ہاتھ ایک خاص عظمت والی جگہ جہاں صرف ہم جلوہ گر ہوں گے۔اس سے معلوم ہوا کہ بعد از خدا حضور صلی اللہ علیہ و سلم تمام ملائکہ، انسان وغیرہ ساری مخلوق سے افضل ہیں۔(مرقات)
Flag Counter