| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا قیامت کے دن میری شفاعت فرما دیں ۱؎ فرمایا میں شفاعت کروں گا میں نے عرض کیا یارسول اللہ میں حضور کو کہاں تلاش کروں۲؎ فرمایا تم مجھے پہلے تو تلاش کرنا پل صراط پر میں نے عرض کیا اگر آپ کو پل صراط پر نہ پاؤں فرمایا پھر مجھے میزان کے پاس ڈھونڈھنا۳؎ میں نے عرض کیا اگر میں حضور کو میزان کے پاس نہ پاؤں۴؎ فرمایا پھر مجھے حوض کے پاس تلاش کرنا ۵؎ کیونکہ میں ان تین جگہوں سے علاوہ میں نہ ہوں گا ۶؎ (ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
شرح
۱؎ یہاں شفاعت سے مراد خاص شفاعت ہے جو خاص غلاموں کی ہوگی،شفاعت عامہ تو ہر مؤمن کی ہوگی۔خیال رہے کہ حضرت انس نے ایک شفاعت مانگ کر ایمان،تقویٰ،حسن خاتمہ،قبر کے امتحان میں کامیابی سب کچھ مانگ لی کہ یہ چیزیں شفاعت خاصہ کی تمہیدیں ہیں۔شعر تجھ سے تجھی کو مانگ کر مانگ لی دو جہاں کی خیر مجھ سا کوئی گدا نہیں تجھ سا کوئی سخی نہیں اس ایک کلمہ میں بہت سے وعدے ہیں: تم ایمان پر جیو گے،تمہاری زندگی تقویٰ میں گزرے گی،تمہارا خاتمہ ایمان پر ہوگا،تمہاری خطائیں قابل معافی ہوں گی،تمہاری شفاعت میرے ذمہ ہوگی کیونکہ کفر حقوق العباد کی شفاعت نہیں ہوگی۔ آج بھی مسلمان روضہ اطہر پر عرض کرتے ہیں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ سے شفاعت کی بھیک مانگتے ہیں،یہ حدیث اس مانگنے کی اصل ہے۔معلوم ہوا کہ حضور سے بھیگ مانگنا جائز ہے کہ دنیا کی ہر چیز شفاعت سے نیچے ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کسی سائل کو محروم نہیں کرتے"وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْہَرْ"حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اولاد مانگو،دین و دنیامانگو،دنیا کی ہر نعمت مانگو،جو مانگو گے پاؤ گے وہاں سے محروم کوئی نہیں پھرتا۔ ۲؎ خیال رہے کہ قیامت میں ایک وقت تو وہ ہوگا جب سارا جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈے گا پھر وقت وہ آوے گا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اپنے گنہگار کو ڈھونڈیں گے۔شعر عزیز بچے کو ماں جس طرح تلاش کرے خدا گواہ یہ ہی حال آپ کا ہوگا وہ لیں گے چھانٹ اپنے نام لیواؤں کو محشر میں غضب کی بھیڑ میں ان کی میں اس پہچان کے صدقے حضرت انس کا سوال غالبًا پہلے وقت کے متعلق ہے کبھی ایسا بھی ہوگا کہ گنہگار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اور غمخوار محبوب اپنے گنہگار کو تلاش کریں گے دو طرفہ تلاش ہوگی۔حضور پلصراط کے کنارے پر کھڑے ہوں گے تاکہ گرتوں کو سہارا دیں۔شعر سیس پہ گٹھڑی ڈگر گھائل میرے پاؤں پیارے تمہیں سنبھالیو جب ڈگمگ میں ہوجاؤں ۳؎ حضور میزان پر اپنی امت کے عمل کا وزن اپنے اہتمام سے کرائیں گے کہ اگر کسی امتی کی نیکیاں ہلکی ہوں اور وہ دوزخ میں لے جایا جانے لگے تو اپنا کوئی عمل اپنا قدم رکھ کر شفاعت فرماکر اس کی نیکیاں وزنی کرادیں دوزخ سے بچالیں کیونکہ حضور کے اعمال کا وزن نہ ہوگا۔ ۴؎ سبحان اللہ! کیا پیارا سوال ہے یعنی آپ کو اس دن ایک جگہ تو مستقل قرار ہوگا نہیں کبھی ان مجرموں کے پاس کبھی دوسرے کے پاس۔ کوئی قریب ترازو کوئی لبِ کوثر کوئی صراط پہ ان کو پکارتا ہوگا کسی طرف سے سدا آئے گی حضور آؤ نہیں تو دم میں غریبوں کا فیصلہ ہوگا کوئی کہے گا دہائی یارسول اللہ تو کوئی تھام کے دامن مچل رہا ہوگا غرضکہ ایک جان اور فکر جہاں اللھم صلی علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تو اگر آپ میزان پر نہ ملیں تو پھر کہاں تلاش کروں۔ ۵؎ غالبًا یہاں حوض سے مراد حوض کوثر کی وہ نہر ہے جو میدان حشر میں ہوگی،اصل حوض کوثر تو جنت میں ہے،محشر میں پیا سے پانی پئیں گے،حضور اپنے اہتمام سے انہیں پلوائیں گے یہاں وہ ہی موجودگی مراد ہے۔ ۶؎ اس حدیث کے متعلق چار باتیں خیال میں رکھو: ایک یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم خصوصی شفاعت کے اوقات میں ان تین جگہ ہوں گے ورنہ عمومی شفاعت کی جگہ تو مقامِ محمود ہے،رب فرماتاہے:" عَسٰۤی اَنۡ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوۡدًا"حاکم کا مقام مقدمات کے وقت کچہری ہوتا ہے،کھانے وغیرہ کے وقت گھر،نماز کے وقت مسجد لہذا یہ حدیث نہ تو قرآن مجید کے خلاف ہے نہ دوسری احادیث کے۔دوسرے یہ کہ یہاں ان تین مقاموں کا ذکر وہاں کی ترتیب کے مطابق نہیں کیونکہ میزان پہلے ہے حوض کی نہر اس سے آگے،پلصراط اس کے آگے۔تیسرے یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے ہمارے نیک اعمال ایسے بھاری ہوجائیں گے جیسے روٹی پانی میں بھیگ کر وزنی ہوجاتی ہے۔ چوتھے یہ کہ یہ حدیث اس حدیث حضرت عائشہ کے خلاف نہیں کہ حضور نے فرمایا کہ ان تین مقام پر کوئی کسی کو یاد نہ کرے گا،وہاں عام شوہروں کا ذکر ہے نہ کہ حضور انور کا صلی اللہ علیہ وسلم۔