۱؎ ہر نبی کا حوض علیحدہ ہوگا مگر ہمارے حضور کا حوض جس کا نام کوثر ہے ان سب سے بڑا سب سے خوبصورت اور سب سے لذیز ہوگا۔
۲؎ کیونکہ ہر نبی کے حوض پر ان کی امت ہی حاضرہوگی۔امت کی زیادتی نبی کے لیے،شاگردوں کی زیادتی استاد کے لیے، مریدین کی زیادتی شیخ کے لیے،رعایا کی کثرت بادشاہ کے لیے باعث فخر ہوتی ہے۔اس زیادتی کا ذکر دوسری حدیث میں ہے کہ جنتی لوگوں کی کل صفیں ایک سوبیس ہوں گی جن میں سے اسّی صفیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت باقی چالیس صفوں میں ساری امتیں۔خیال رہے کہ ایسے موقعہ پر لعل اور رجاء شک کے لیے نہیں بلکہ یقین کے لیے ہوتا ہے جیسے قرآن مجید میں بہت جگہ لعل فرمایا گیا ہے۔