روایت ہے حضرت ثوبان سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ میرا حوض عدن سے لے کر ۱؎ عمان بلقاء تک ہے۲؎ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ہے اور شہد سے زیادہ میٹھا۳؎ اور اس کے کوزے آسمان کے تاروں کے برابر۴؎ ہیں جو ایک گھونٹ پئے گا اس کے بعد پھر کبھی پیاسا نہ ہوگا ۵؎ لوگوں میں سب سے پہلے وہاں پہنچنے والے وہ مہاجر فقیر ہیں جن کے بال پراگندہ ہیں کپڑے میلے جو امیرعورتوں سے نکاح نہ کرسکیں ان کے درازے نہ کھولے جاویں ۶؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
شرح
۱؎ عدن آج کل یمن کا دارالخلافہ ہے،مشہور شہر ہے،بحر ہند کے کنارے پر واقع ہے،حجاج کا جہاز پہلے عدن ٹھہرتا ہے پھر جدہ پہنچتا ہے۔ ۲؎ عمان عین کے فتحہ میم کے شد سے اردن کا مشہور شہر ہے وہاں کا دارالخلافہ ہے اور عمان عین کے پیش میم کے شد سے یمن کا ایک شہر بھی ہے شام کا ایک مقام بھی اور بلقاء شام کی مشہور جگہ،عمان کو بلقاء کی طرف مضاف فرماکر بتایا کہ یہاں شام والا عمان مراد ہے۔ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ یہ بیان حد بندی کے لیے نہیں بلکہ سننے والے کو وسعت سمجھانے کے لیے ہے۔اسی واسطے مختلف احادیث میں مختلف شہروں کے نام لیے گئے جو شخص جن شہروں سے واقف تھا اسے وہ ہی شہر بتائے گئے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ حوض کوثر بعض لوگوں کی نگاہ میں دراز ہوگا،بعض کی نگاہ میں بہت دراز،بعض کی نگاہ میں بہت ہی دراز جیسے مؤمن کی قبر کی فراخی مختلف ہے۔(مرقات) ۳؎ مٹھاس کے بیان کے لیے شہد کا ذکر فرمایا کہ شہد میٹھا بھی ہوتا ہے لذیذ بھی اور اس میں شفاء بھی ہے دیگر شیرینی میں یہ خوبیاں جمع نہیں۔ ۴؎ کوزوں اور تاروں کی گنتی حضور کو معلوم ہے دوسروں کے علم سے وراء ہے،چونکہ تارے بہت بھی ہیں چمکدار بھی خوشنما بھی اس لیے ان کا ذکر فرمایا ذرات یا قطرات کا ذکر نہیں فرمایا۔ان کوزوں میں کثرت بھی ہے،چمک دمک بھی،بے مثال حسن بھی۔ ۵؎ حوض کوثر جنت میں ہے اس کی ایک نہر میدان حشر میں اسی میں تاثیر یہ ہے کہ نہ اب پیاس رہے نہ آئندہ پیاس محسوس ہو۔سبحان اللہ! ۶؎ یہاں فقراء سے مراد وہ فقراء ہیں جو صالحین مؤمنین ہوں جو علم و عبادت میں مشغولیت کی وجہ سے مال و عزت حاصل نہ کرسکے اپنے کو خدمت دین کے لیے وقف رکھا۔دوسری روایت میں بھی اسے یوں واضح فرمایا کہ دنیا میں بھوکے رہنے والے آخرت میں سیر ہوں گے۔(مرقات)جنہیں دنیا والے نہیں پوچھتے انہیں اللہ تعالٰی اور اس کے رسول پوچھتے ہیں۔خیال رہے کہ یہاں اشعت وغیرہ کا مطلب یہ نہیں کہ وہ گندے رہتے تھے بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ ہر وقت جسمانی صفائی کے پیچھے نہیں لگتے،اس صفائی میں مشغول ہوکر آخرت کو نہیں بھولتے لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں ارشاد ہے کہ صفائی و طہارت بہت اعلٰی چیز یں ہیں،فرمایا گیا طہارت نصف ایمان ہے،نیز اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ وہ لوگوں کے دروازہ پر جاتے ہیں مگر ان کے لیے دروازے نہیں کھلتے۔یہ فرض و تقدیر کا بیان ہے کہ اگر بالفرض وہ کسی دنیادار کے دروازہ پر جائیں تو وہ ان بے چاروں کی طرف التفات نہ کریں ورنہ یہ فقراء تمام عالم سے غنی ہوتے ہیں۔مصرع کیوں نہ وہ بے نیاز ہو تجھ سے جسے نیاز ہو