Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
428 - 4047
حدیث نمبر 428
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں چلے جاویں گے تو موت لائی جاوے گی حتی کہ جنت و دوزخ کے درمیان رکھی جاوے گی ۱؎ پھر ذبح کردی جاوے ۲؎ پھر پکارنے والا پکارے گا اے جنتیو اب موت نہیں اور اے دوزخیو اب موت نہیں۳؎  تو جنتی لوگوں کو خوشی پر خوشی بڑھ جاوے اور دوزخی لوگوں کو غم پرغم زیادہ ہوجاوے گا۴؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ دنبہ کی شکل میں موت اعراف پہ کھڑی کی جاوے گی۔خیال رہے کہ دنیا کے اعراض صفات وغیرہ سب کی صورتیں ہیں جو آخرت میں ظاہر ہوں گی،آج ہم خواب میں حالات کو اجسام کی شکل میں دیکھ لیتے ہیں شاہ مصر نے سات سال کا قحط سات بالیوں سات گایوں کی شکل میں دیکھا تھا۔

۲؎  اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ موت وجودی چیز ہے محض عدم نہیں،رب فرماتاہے:"خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوۃَ"لہذا موت فنا ہوسکتی ہے کہ وہ بھی مخلوق ہے۔

۳؎ لہذا اب ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہو نہ مرنا ہے نہ یہاں سے نکلنا،نہ بیماری نہ کوئی تکلیف،تمہیں بھی یہاں ہمیشگی ہے اور تمہارے عیش و آرام کو بھی دوام۔

۴؎  اس خوشی اور غم کا بیان نہیں ہوسکتا اگر وہاں موت ہوتی تو جنتی تو خوشی سے مرجاتے اور دوزخی غم سے ہلاک ہوجاتے۔
Flag Counter