| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ کوئی جنت میں داخل نہ ہوگا مگر پہلے اسے اس کا دوزخی ٹھکانہ دکھایا جاوے گا اگر وہ جرم کرتا ۱؎ تاکہ وہ زیادہ شکر کرے اور کوئی آگ میں نہ جاوے گا مگر اسے اس کاجنتی ٹھکانہ دکھایا جاوے گا اگر وہ نیکیاں کرتا تاکہ اس پر حسرۃ ہو جاوے۲؎(بخاری)
شرح
۱؎ ہرشخص کے لیے دو ٹھکانے مقرر ہیں ایک دوزخ میں،دوسرا جنت میں،مؤمن اپنا اور کافر کا جنتی مقام لے گا اور کافر دوزخ میں اپنا اور مسلمان کے مقام کو سنبھالے گا۔یہاں قبر کے امتحان میں کامیاب ہوجانے پر دکھایا جاوے گا،پھر قیامت میں دکھانا مراد ہے جیساکہ مضمون ہے اور عذاب قبر کے باب میں خود قبر میں دکھانے کا ذکر تھا۔ ۲؎ مؤمن کی خوشی کی انتہاء نہ رہے گی اور کافر کے رنج و غم بے حد ہوجائیں گے آگ کی تکلیف اور جنت کا گھر چھوٹ جانے کا صدمہ۔