| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ مسلمان آگ سے نجات پائیں گے تو وہ جنت دوزخ کے درمیان ایک پل پر روکے جائیں گے ۱؎ تو بعض کا ان ظلموں کا بدلہ لیا جاوے گا جو ان کے درمیان دنیا میں تھے ۲؎ حتی کہ جب پاک و صاف کردیئے جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی جاوے گی۳؎ تو اس کی قسم جس کے قبضہ میں محمد مصطفی کی جان ہے ان میں سے ہر ایک اپنے جنتی گھر کا اس سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوگا جو اپنے دنیاوی گھر کا ہدایت یافتہ تھا ۴؎(بخاری)
شرح
۱؎ غالب یہ ہے کہ یہ پل جنت دوزخ کے درمیان کوئی اور پل ہے سواء پلصراط کے کیونکہ پلصراط تو دوزخ کے اوپر واقع ہے جنت کے درمیان نہیں،نیز یہاں ارشاد ہے کہ مؤمن آگ سے نجات پاکر اس پل پر پہنچے گے یعنی پلصراط سے گزر جانے کے بعد اور اگر اس سے پلصراط ہی مراد ہو تو اس کا دوسرا کنارہ مراد ہوگا جو دوزخ کے دوسری طرف جنت کی جانب،اس کا پہلا کنارہ میدان حشر کی طرف،عام شارحین نے اس سے پلصراط مراد لیا ہے۔واللہ اعلم! ۲؎ یعنی ظالموں سے مظلوموں کو بدلہ دلوایا جاوے گا خواہ جانی ظلم ہو یا مالی یا عزت و آبرو کا ظلم۔غالبًا اس سے معمولی ظلم مراد ہیں بڑے ظلم جیسے قتل،مال مار لینا وغیرہ کی سزا میں تو دوزخ میں رکھا جاوے گا۔یہاں قصاص یا تو اس طرح لیا جاوے گا کہ مظلوم سے معاف کرادیا جاوے یا مظلوم کا درجہ بڑھادیا جاوے یا ظالم کا درجہ گھٹا دیا جاوے، قصاص کی بہت صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ۳؎ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی گندا جنت میں نہ جائے گا وہاں تو پاک و صاف کی جگہ ہے۔مؤمن بعض گناہوں سے تو دنیاوی تکالیف فکریں بیماریوں وغیرہ کے ذریعہ صاف کردیئے جاتے ہیں،بعض گناہوں سے سکرات موت کی وجہ سے، بعض گناہوں سے عذاب قبر کی وجہ سے مگر بعض گناہ ایسے ہیں جنہیں کچھ دن دوزخ کی آگ میں رکھ کر دور کیے جائیں گے جیسے سونے چاندی کے معمولی میل صابن برش سے صاف کیے جاتے ہیں مگر بعض میل آگ میں تپا کر ہی دور کیے جاسکتے ہیں،یہ ہی ہمارے میلوں کا حال ہے۔(اشعہ) ۴؎ چنانچہ کوئی جنتی جنت میں پہنچ کر کسی سے اپنے گھر کا پتہ نہ پوچھے گا بلکہ خود بخود بے تکلف وہاں ایسے پہنچ جاوے گا جیسے وہاں کا پرانا باشندہ ہے کیونکہ گناہ دھل جانے کی وجہ سے اس کا دل نورانی خالص ہوگیا نور سے کچھ نہیں چھنا۔ (اشعہ)رب فرماتا ہے:"یَہۡدِیۡہِمْ رَبُّہُمْ بِاِیۡمٰنِہِمْ"اللہ تعالٰی دنیا میں بھی ہم کو کامل نور ایمانی عطا فرمادے۔