Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
425 - 4047
حدیث نمبر 425
روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ آگ سے چار آدمی نکالے جائیں گے ۱؎ پھر بارگاہِ الٰہی میں پیش کیے جائیں گے پھر انہیں آگ کیطرف جانے کا حکم دیا جاوے گا ۲؎  تو ان میں سے ایک مڑمڑ کر دیکھے گا عرض کرے گا یارب میں امیدوار تھا جب تو نے مجھے وہاں سے نکال لیا تو اب دوبارہ نہ لوٹائے گا فرمایا تو رب اسے آگ سے نجات دے دے گا ۳؎(مسلم)
شرح
۱؎ یعنی چار قسم کے لوگ نکالے جائیں گے یا ہر بار میں چار چار افراد نکالے جائیں گے اور ہوسکتا ہے کہ یہ واقعہ شخصی ہو۔خیال رہے کہ یہ سب لوگ بخشے جائیں گے حضور کی شفاعت سے ہی کوئی آگے کوئی پیچھے کوئی کسی طرح کوئی کسی طرح۔شفاعت سے پہلے تو رب نہ کسی سے کلام فرمائے گا نہ قیامت کا کاروبار شروع فرمائے گا۔

۲؎  سبحان اللہ! کیسا پیارا حکم ہے دوزخ سے نکل کر ہمارے حضور آؤ اچھا پھر وہاں ہی لوٹ جاؤ،اس حکم حکیمانہ پر دل و جان فدا۔اعلٰی حضرت قدس سرہ نے کیا خوب فرمایا شعر

جملہ عالم بندہ اکرام تو			صدچو جان من فدائے نام تو

۳؎  معلوم ہوا کہ رب تعالٰی سے امید بھی بڑی عبادت ہے ایسی عبادت کہ مشکلیں حل کر دیتی ہے۔امید ہی وہ عبادت ہے جو اس عالم میں بھی ہوگی اور کام آوے گی امید ہی وہ عبادت ہے جو ہم جیسے گنہگاروں کا سہار اہے۔شعر

زطاعت نہ آور دم الا امید			خدایا مگرداں مرانا امید

اس فرمان عالی سے معلوم ہوتا ہے کہ ان چار میں سے ایک شخص یہ عرض کرے گا باقی تین بھی اسی کی عرض سے بخش دیئے جائیں گے،رحمت والے کا ساتھ بھی رحمت سے حصہ دلادیتا ہے،یا وہ چاروں باری باری سے یہ عرض کریں گے یہاں صرف ایک کا ذکر ہوا ہے۔
Flag Counter