Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
424 - 4047
حدیث نمبر 424
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ میں جانتا ہوں جنتیوں میں سے آخری داخل ہونے والے کو جنت میں اور دوزخیوں میں سے وہاں سے آخری نکلنے والے کو ۱؎ کہ یہ شخص ہوگا جسے قیامت کے دن لایا جائے گا کہا جائے گا کہ اس پر اس کے چھوٹے گناہ پیش کرو اور اس سے اس کے بڑے گناہ اٹھا رکھو ۲؎ چنانچہ اس پر اس کے چھوٹے گناہ پیش کیے جائیں گے کہا جاوے گا تو نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں گناہ کیے اور فلاں فلاں دن فلاں فلاں گناہ کیے وہ کہے گا ہاں۳؎  انکار کرنے کی طاقت نہ رکھے گا۴؎  اور وہ اپنے بڑے گناہوں سے ڈر رہا ہوگا کہ اس پر وہ پیش کردیئے جاؤیں۵؎  کہا جاوے گا کہ تیرے لیے ہر گناہ کے عوض ایک نیکی ہے ۶؎ تب وہ کہے گا کہ میں نے تو اور بڑے کام کیے تھے جنہیں میں یہاں نہیں دیکھ رہا ہوں۷؎ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ حضور سرکار ہنس پڑے حتی کہ آپ کی داڑھیں چمک گئیں ۸؎(مسلم)
شرح
۱؎ یہ دونوں چیزیں لازم ملزوم ہیں جو دوزخ سے آخر میں نکلے گا وہ ہی جنت میں آخر میں جائے گا۔مرد سے مراد نوع مرد ہے نہ کہ شخصی مرد،اس قسم کے بہت لوگ ہوں گے جنہیں حضور صلی اللہ علیہ و سلم تفصیلًا جانتے ہیں۔

۲؎  یعنی اس کے سامنے اس کے چھوٹے گناہ اقرار کرانے کے لیے پیش کرو ابھی بڑے گناہ اسے نہ دکھاؤ۔خیال رہے کہ ابھی ان بڑے گناہوں کی معافی نہیں ہے بلکہ اس سے چھپانا ہے جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔

۳؎  اس دن اپنے گناہ مان لینا سعادت کی نشانی ہوگی اور بخشش کا پیش خیمہ کہ انکار کرنے پر مصیبت آجاوے گی،مسلمان یہ بات یاد رکھیں۔

۴؎  یعنی اس کے دل میں اس میں سے کسی گناہ کے انکار کی ہمت نہ ہوگی یہ بے ہمتی نیک بختی کی علامت ہے۔اللہ تعالٰی یہاں گناہ کرنے کی ہم کو ہمت ہی نہ دے یہ ہمت ہارنا ان شاءاللہ جیتنے کا پیش خیمہ ہے،یہ ہمت عذاب ہے کم ہمتی رحمت۔

۵؎  معلوم ہوا کہ اس دن ہرشخص کو اپنا ایک ایک عمل یاد ہوگا،نامہ اعمال اس کی یاد کی تصدیق کرے گا،رب فرماتا ہے: "اِقْرَاۡ کِتٰبَکَ کَفٰی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیۡکَ حَسِیۡبًا"بلکہ مرتے وقت بھی انسان کے سامنے اپنے ہر نیک و بد اعمال آجاتے ہیں بہتر ہے کہ ہرشخص روزانہ سوتے وقت اپنے اعمال کا حساب لیا کرے۔

۶؎  ظاہر یہ ہے کہ یہ وہ شخص ہوگا جس نے اپنے ان گناہوں سے توبہ نہیں کی تھی بغیر توبہ مرگیا تھا اور یہ تبدیلی محض کرم و فضل سے ہوگی۔اس تبدیلی کا مطلب یہ نہیں کہ گناہ نیکیاں بن جاویں گے کہ زنا جہاد بن جاوے اور جھوٹ سچے ہوجاوئے بلکہ مطلب یہ ہے کہ اسے فی گناہ ایک عطیہ دے دو اگر وہ نیکی کرتا تو یہ پاتا اسے ویسے ہی دے دو۔خیال رہے کہ توبہ،ایمان،نیک اعمال کی برکت سے گناہوں کی تبدیلی قانون ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِلَّا مَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صٰلِحًا فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللہُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنٰتٍ"وہاں یہ تبدیلی صرف فضل و مہربانی ہے۔شعر

گنہگار پہ جب لطف آپ کا ہوگا			کیا بغیر کیا بے کیا کیا ہوگا

بنیانہ    کیتی    کیتی   ٹھکرائی			بن کیتی لکھ دین برائی

اﷲ تعالٰی انصاف نہ کرے رحم فرمادے کہ ہماری کی ہوئی برائیاں بے کی ہوئی بنادے یعنی محو فرمادے،سب پر مہربانی و معافی کا قلم پھیر دے۔شعر

من نہ گویئم کہ طاعتم بہ پذیر			قلم عفو برگنا ہم کش

۷؎  یعنی اس کرم کریمانہ کو دیکھ کر پکار اٹھے گا کہ مولٰی میرے بڑے گناہ تو یہاں موجود ہی نہیں وہ بھی لائے جاویں اور ان بڑے گناہوں پر بڑے عطیے دیئے جاؤیں،تو بخش بے حساب کہ ہیں جرم بے حساب۔

۸؎  حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے انقلاب حال پر تبسم فرمایا کہ ابھی تو گناہ کبیرہ سے ڈر رہا تھا اب خود مانگ رہا ہے۔رب کا فضل تو آن کی آن میں کایا پلٹ دیتا ہے وہ اگر چاہے تو ہم جیسے لاکھوں گنہگار پرہیزگاربن جاویں وہاں کیا کمی ہے،پانچ منٹ کی بارش مردہ زمین کو زندہ کردیتی ہے۔
Flag Counter