| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ آخری وہ شخص جو جنت میں داخل ہوگا وہ شخص ہوگا جو کبھی چلے گا اور کبھی گرے گا ۱؎ اور کبھی اسے آگ جھلسائے گی۲؎ پھر جب اس سے نکل جاوے گا تو اس کی طرف دیکھے گا کہے گا مبارک ہے وہ جس نے مجھے تجھ سے نجات دی۳؎ اللہ نے مجھے وہ شے دی ہے جو اگلے پچھلوں میں سے کسی کو نہیں دی۴؎ پھر اس کے سامنے ایک درخت پیش کیا جاوے گا ۵؎ وہ کہے گا اے میرے رب مجھے اس درخت سے قریب کردے میں اس کا سایہ لوں گا اور اس کا پانی پیوں ۶؎ تو اللہ تعالٰی فرمائے گا کہ اے ابن آدم ممکن ہے کہ اگر میں تجھے یہ دیدوں تو تو مجھ سے اس کے سواءبھی مانگے ۷؎ وہ عرض کرے گا نہیں اے رب اور اس سے وعدہ کرے گا کہ اس کے سواء اور نہ مانگے ۸؎ اس کا رب اسے معذور جانے گا کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھ رہا ہوگا جس پر صبر نہیں ہوسکتا تو اسے اس درخت سے قریب کردے گا وہ اس کا سایہ لے گا اور اس کا پانی پئے گا ۹؎ پھر دوسرا درخت اس کے سامنے کیا جاوے جو پہلے سے اچھا ہوگا تو کہے گا اے میرے رب مجھے اسی درخت سے قریب کر دے ۱۰؎ تاکہ میں اس کا پانی پیوں اور اس کا سایہ لوں میں تجھ سے اس کے سواء نہ مانگوں گا ۱۱؎ تو رب فرمائے گا اے ابن آدم کیا تو نے مجھ سے معاہدہ نہ کیا تھا کہ تو اس کے سواء اور مجھ سے نہ مانگے گا پھر فرمائے گا ممکن ہے کہ اگر میں تجھے اس سے قریب کردوں تو تو مجھ سے اس کے سواء مانگے۱۲؎ وہ رب سے وعدہ کرے گا کہ اس کے سواء نہ مانگے گا اور اس کا رب اسے معذور جانے گا کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھے گا جس پر صبر ناممکن ہے رب اسے اس درخت سے قریب کر دے گا ۱۳؎ وہ اس کا سایہ لے گا اس کا پانی پئے گا پھر اس کے سامنے جنت کے دروازے کے پاس ایک درخت ظاہر ہوگا جو پہلے دو سے اچھا ہوگا۱۴؎ تو کہے گا اے میرے رب اب مجھے اس سے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ لوں اور اس کا پانی پیوں۱۵؎ اس کے سواء تجھ سے کچھ نہ مانگوں گا تو فرمائے گا اے ابن آدم کیا تو نے مجھ سے یہ عہد نہ کیا تھا کہ تو مجھ سے اس کا سواء کچھ نہ مانگے گا عرض کرے گا ہاں یارب یہ ہی آخری سوال ہے ۱۶؎ اس کے سوا تجھ سے اور نہ مانگوں گا اور اس کا رب اسے معذور رکھے گا کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھے گا جس پر اس سے صبر نہ ہوگا۱۷؎ تو اس کو اس سے قریب کردے گا تو جب اس سے قریب کردے گا وہ جنت والوں کی آواز سنے گا ۱۸؎ تو کہے گا اے رب مجھے اس میں داخل فرمارب فرمائے گا ابن آدم مجھے تجھ سے فراغت نہیں ہوتی ۱۹؎ کیا تجھے یہ بات راضی کرے گی کہ میں تجھے دنیا اور دنیا کی مثل اس کے ساتھ دوں۲۰؎ عرض کرے گا اے رب مجھ سے تو مذاق کرتا ہے تو رب العالمین ہے ۲۱؎ حضرت ابن مسعود ہنس پڑے پھر فرمایا تم مجھ سے پوچھتے کیوں نہیں کہ میں کس چیز سے ہنستا ہوں لوگوں نے عرض کیا کہ آپ کس چیز سے ہنستے ہیں فرمایا ایسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہنسے تھے صحابہ نے عرض کیا تھا کہ یارسول اللہ حضور سرکار کس چیز سے ہنستے ہیں فرمایا رب العالمین کے ہنسنے سے جب وہ بندہ کہے گا ۲۲؎ کہ کیا تو مجھ سے مزاق فرماتا ہے حالانکہ تو رب العالمین ہے تو فرمائے گا میں تجھ سے مذاق نہیں کرتا لیکن میں اپنے ہر چاہے پر قادر ہوں۲۳؎ اور اسی مسلم کی ایک روایت میں ہے جو حضرت ابو سعید سے ہے اسی طرح ہے مگر انہوں نے یہ ذکر نہ کیا کہ اے ابن آدم مجھے تجھ سے فراغت نہیں ہوتی۲۴؎ آخر حدیث تک اس میں یہ زیادتی کی ہے کہ اللہ اسے یاد دلائے گا کہ فلاں فلاں چیز مانگ ۲۵؎ حتی کہ جب اس کی خواہشیں ختم ہوجائیں گی تو اللہ تعالٰی فرمائے گا کہ وہ سب کچھ تیرا ہے اور اس سے دس گنا اور ۲۶؎ فرمایا پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہوگا تو اس پر اس کی دو بیویاں آنکھ والی حوریں داخل ہوں گی۲۷؎ کہیں گی شکر ہے اس اللہ کا جس نے تجھے ہمارے لیے اور ہمیں تیرے لیے زندہ رکھا ۲۸؎ فرماتے ہیں وہ کہے گا کہ جیسا مجھے عطیہ کیا گیا وہ کسی کو نہ دیا گیا ۲۹؎
شرح
۱؎ فہو یمشی میں ف تفصیلیہ ہے جس سے اس شخص کے جنت میں داخلہ کی تفصیل بیان فرمائی گئی،تعقیبیہ نہیں ہے۔ جنت میں داخل ہوجانے کے بعد چلنا اور گرنا کیسا یعنی جب جنت میں آتا ہوگا تو راستہ اس طرح طے کرے گا۔ ۲؎ تسفع کے لفظی معنی ہیں جلاکر نشان لگادینا،بالکل جلا دینے کو خرق کہتے ہیں اور معمولی جلا کر چہرہ وغیرہ سیاہ کردینے کو سفع۔(مرقات)لہذا اس کے معنی جھلسانا بہت موزوں ہیں مؤمن کو دوزخ کی آگ بالکل جلا ڈالنے پر قادر نہ ہوگی ہاں جھلسادے گی۔ ۳؎ اس کا آگ سے یہ کلام نہایت ہی فرحت و خوشی کی حالت میں ہوگا اس وقت اسے ایسی خوشی ہوگی کہ اگر موت ہوتی تو آج اسے شادی مرگ ہوجاتی۔ ۴؎ اس کا یہ کلام بھی انتہائی خوشی کا ہوگا۔خیال رہے کہ ادنیٰ جنتی کو بھی یہ خیال نہ آوے گا کہ میں ادنی ہوں اگر یہ خیال ہوجائے تو اسے رنج ہو اور جنت میں رنج کیسا۔ ۵؎ یہ درخت جنت سے باہر ہوگا اس کے پاس پانی کا چشمہ ہوگا جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے اس درخت کی سرسبزی شادابی حسن و خوبصورتی بیان سے باہر ہے۔ ۶؎ یعنی میرے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ میں اس درخت تک پہنچ جاؤں ابھی اسے جنت کی خبر نہ ہوگی کہ وہاں کیا کیا ہے۔ ۷؎ رب تعالٰی کا لعلی فرمانا اپنے شک کی بنا پر نہیں ہوتا بلکہ یا تو سامنے والے کے شک کی وجہ سے ہوتا ہے یا یقین کے لیے۔مطلب یہ ہے کہ تو یقینًا آگے اور بھی سوال کرے گا یا تو سوال نہ کرنے پر یقین نہ کر،تیری حالت اس مقام کی فرحت ایسی ہے کہ تو اپنے اس یقین پر قائم نہ رہے گا۔ ۸؎ اس وقت بندے کو اپنے پر پورا اعتماد ہوگا کہ مجھے وہاں پہنچ جانا ہی کافی ہے میں اس کے سواء اور کچھ نہ مانگوں گا، نعوذ باللہ جھوٹا وعدہ کرنے کی نیت نہ کرے گا لہذا اس فرمان پر کوئی اعتراض نہیں وہ جگہ جھوٹ بولنے کی ہوگی ہی نہیں۔ ۹؎ یہ شخص یہاں وہ عیش و بہار دیکھے گا جو اس کے خیال و گمان وہم سے ورا ہوں گے وہ چیزیں بیان میں نہیں آسکتیں۔ ۱۰؎ پہلا درخت بھی جنت کے راستہ ہی میں تھا اور یہ بھی وہاں ہی ہوگا مگر یہ درخت پہلے نظر نہ آوے گا اس درخت پر پہنچ کر نظر آوے گا،یہ سب کچھ رب تعالٰی کی طرف سے ہوگا،وہ ہی دکھائے گا،وہ ہی دل میں سوال پیدا کرے گا،وہ ہی عطا فرمائے گا۔ ۱۱؎ وہ شخص یہ دعا فورًا نہ کرے گا اولًا عرصہ تک خاموش رہے گا،صبر کرنے کی کوشش کرے گا،پھر جب صبر کا جام چھلک جائے گا تب یہ عرض کرے گا جیساکہ دوسری روایات میں ہے۔ ۱۲؎ سبحان اللہ! یہ ارشاد عالی اسے مانگنے پر ابھارنے کے لیے ہے کہ تو مجھ سے اور مانگ یہ سارے کلام محبت وکرم پر ہیں۔ ۱۳؎ بعض علماء کو میں نے فرماتے سنا کہ یہ وہ شخص ہوگا جو تھا تو مؤمن مگر اپنے والدین کی خدمت میں کوتاہی کرتا تھا، وہ جوان تھا کماؤ تھا،اس کے ماں باپ بوڑھے اور معذور تھے یہ انہیں خرچہ دیتا تو تھا مگر ترسا ترسا کر بہت انتظار دکھا کر، اس کی سزا کا ظہور اس طرح ہوگا کہ اسے جنت ملے گی تو مگر دکھا دکھا کر ترسا ترسا کر۔واللہ اعلم! غرضکہ ہوگا اسی طرح کا مجرم کہ اسے بہت انتظار کے بعد جنت دی جاوے ورنہ اور لوگ تو جنت میں بغیر انتظار داخل کیے جائیں گے۔ ۱۴؎ وہ دونوں درخت تو راستہ جنت میں تھے اب یہ درخت دروازہ جنت سے متصل ہوگا جو ان دونوں سے بہتر ہوگا اور یہاں سے جنت کا اندرونی حصہ دیکھنے میں آوے گا یہاں بہار ہی کچھ اور ہوگی جو بیان نہیں کی جاسکتی۔ ۱۵؎ وہ سمجھے گا کہ ان دونوں درختوں کی طرح وہاں بھی صرف سایہ اور پانی ہے اسے کیا خبر کہ وہاں جنت کے نظارے بھی ہیں اس لیے صرف سایہ لینے پانی پینے ہی کا ذکر کرے گا۔ ۱۶؎ یہاں ھذہ یا تو مبتداء ہے جس کی خبر پوشیدہ ہے یا مفعول ہے جس کا فعل پوشیدہ ہے یعنی آخری سوال میرا یہ ہی ہے اس کے بعد اور سوال نہ کروں گا یا تجھ سے آخری یہ ہی چیز مانگتا ہوں اب نہ مانگوں گا،وہ سمجھتا ہوگا کہ اس سے اعلٰی تو کوئی چیز ہوسکتی ہی نہیں پھر سوال کیا۔ ۱۷؎ لہذا یہ وعدہ خلافیاں بے صبری کی وجہ سے ہوں گی۔ ۱۸؎ یا تو جنتی لوگوں کی آپس کی بات چیت سنے گا یا ان کی تسبیح تہلیل،تلاوت قرآن مجید کی آواز جنت میں ذکر اللہ اور تلاوت وغیرہ ہوں گے۔خیال رہے کہ قیامت میں کوئی اندھا بہرا نہ ہوگا سب کی یہ قوتیں بہت ہی تیز ہوں گی اس لیے یہ شخص جنت کے اندر کی آوازیں دروازے سے سن لے گا،رب فرماتاہے:"فَکَشَفْنَا عَنۡکَ غِطَآءَکَ فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیۡدٌ"۔ ۱۹؎ یصرینی باب ضرب کا مضارع ہے،یہ بنا ہے صری سے بمعنی ختم ہونا،منقطع ہونا،چھٹکارا ملنا یعنی تیرا مجھ سے مانگنا ختم نہیں ہوتا تیری دادو حش سے فارغ نہیں ہوتا۔بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاں ما استفہامیہ ہے۔معنی یہ ہیں کہ کون چیز مجھے تجھ سے فارغ کرے گی بتا کس چیز پر تیری مانگ ختم ہوتی ہوگی۔مرقات نے فرمایا کہ یہاں عبارت الٹی ہے اصل میں یہ تھا ما یصرینی منك میری کون سی عطا پر تیری طلب ختم ہوگی تو کس عطا پر مانگنے سے فارغ ہوگا یہ فرمان عالی نہایت ہی کرم و رحم کا ہے۔ ۲۰؎ یعنی اگر تجھے جنت کا اتنا رقبہ دے دوں جو ساری دنیا کے رقبہ سے دوگنا ہے تو کیا تو سوالات اور مانگ ختم کردے گا لے تو اتنا لے لے اور اپنی مانگ ختم کر۔ ۲۱؎ یہ شخص انتہائی خوشی میں دربار عالیہ کے آداب بھی اور عرض کرنے کا طریقہ بھی بھول جاوے گا وہ سمجھے گا کہ جنت میں اتنی جگہ کہاں سے آئی مجھ سے یوں ہی میرے دل لگانے کے لیے فرمایا جارہا ہے۔استہزاء کے لغوی معنی ہیں دل لگی جو مخاطب کے دل کو لگ جاوے،اللہ تعالٰی دل اور دل لگنے سے پاک ہے اور دل لگی کے ظاہر معنی سے بھی پاک ہے کہ کچھ دینا تو نہ ہو صرف اس کا دل لبھانے کے لیے یہ فرمادے۔(اشعہ)مرقات نے فرمایا کہ اس کی یہ عرض و معروض ایسی بے خودی میں ہوگی جیسی اس گم شدہ اونٹ والے نے اونٹ مل جانے پر کہا الٰہی انت عبدی واناربك خدایا تو میرا بندہ ہے میں تیرا رب اسے خبر ہی نہ رہی کہ میرے منہ سے نکل کیا رہا ہے ایسی جوش کی حالت کی بے ادبی معاف ہوتی ہے،یہ بے ادبی نہیں بلکہ بے خودی کی بدحواسی ہے۔ ۲۲؎ رب تعالٰی کے ہنسنے سے مراد ہے اس کا خوش ہوجانا،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا ہنسنا ہے آپ کا تبسم فرمانا یہ،تبسم بھی اظہار خوشی کے لیے ہے،حضرت ابن مسعود کا ہنسنا حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی نقل فرماتے ہوئے ہے۔حضرات صحابہ کرام حضور کے افعال کریمہ کی روایت بالعمل بھی کرتے تھے جب غضب ہو تو بندہ کی عبادت پر ناراض ہوجائے اور جب کرم ہو تو اس کے گناہ پر خوش ہوجائے۔بلاتشبیہ شیخ سعدی کا وہ مقولہ دیکھو گہے برسلامے بربخندو گہے بہ دشنامے خلعت وہندہ اس کی تحقیق یہاں مرقات میں دیکھو۔اعلٰی حضرت نے فرمایا اس میں روضہ کا سجدہ ہو کہ طواف ہوش میں جو نہ ہو وہ کیا نہ کرے رب ہم سے زیادہ ہم پر مہربان ہے۔ ۲۳؎ یعنی تو نے میری قدرت جانی نہیں تیری طلب سے میری رحمتیں زیادہ ہیں میری عطائیں تیرے وہم و گمان سے ورا ہیں۔ ۲۴؎ یعنی مسلم کی روایت میں اتنی عبارت نہیں اور دوسری دراز عبارت ہے جو دوسری روایت میں مذکور ہے۔ ۲۵؎ سبحان اللہ! کیسا کریم رحیم ہے کہ خود ہی مانگنا سکھائے اور خود ہی عطائیں فرمائے جب حاکم فرمائے کہ تم فلاں مضمون کی درخواست ہم کو دے دو مطلب یہ ہوتا ہے کہ نوکر رکھ لیا ہے قانونی کارروائی کے لیے درخواست مانگی ہے یہ ہی وہاں بنے گا بلکہ دنیا میں بھی ایسا ہی ہے وہ ہی دعا سکھاتا ہے وہ ہی عطائیں فرماتا ہے۔ ۲۶؎ اس کا مطلب پہلے بیان ہوچکا کہ اولًا ایک مثل کی عطا ہوگی پھر دس گنا کی لہذا روایات میں کوئی تعارض نہیں۔ ۲۷؎ اس کی یہ بیبیاں اس کی منتظر تھیں۔خیال رہے کہ اس جنتی کو دو بیویاں تو حورعین ملیں گی اور اس کی دنیا کی وہ بیوی جو اس کے نکاح میں فوت ہوئیں اگر اس کا خاتمہ ایمان پر ہوا ہے وہ بھی ملے گی ان کے سواء اور وہ عورتیں جو کنواری فوت ہوئیں یا وہ جن کے خاوند کافر مرے وہ بھی اسے ملے گی ہر جنتی کا یہ ہی حال ہوگا۔چنانچہ حضرت مریم اور حضرت بی بی آسیہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے نکاح میں ہوں گی،یہاں دو فرمانا صرف حوروں کے لیے ہے لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں کہ"وَلَہُمْ فِیۡہَاۤ اَزْوٰجٌ مُّطَہَّرَۃٌ"وہاں ازواج جمع ارشاد ہوا ہے یہاں دو حوریں فرمایا گیا دونوں درست ہیں۔ ۲۸؎ یعنی اس رب نے تم کو ہمارے لیے اور ہم کو تمہارے لیے دائمی زندگی بخشی کہ اب نہ مرنا ہے نہ یہاں سے نکلنا نہ ہماری تمہاری جدائی تجھے ہم تک پہنچایا۔ ۲۹؎ یا تو اس شخص کو اعلٰی درجات والے جنتیوں کی عطاؤں کی خبر نہ ہوگی وہ سمجھے گا سب سے اعلٰی نعمتیں مجھے ہی دی گئی ہیں یا اسے ان حضرات کے عطیوں کی طرف دھیان نہ جاوے گا اپنی نعمتوں پر ہی دھیان رہے گا تاکہ اسے رنج نہ ہو کہ جنت میں رنج و غم نہیں،مرقات نے پہلی توجیہ اختیار کی غرضکہ اس کی خوشی کی انتہا نہ ہوگی۔