| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہوجائیں گے تو اللہ تعالٰی فرمائے گا کہ جس کے دل میں رائی برابر ایمان ہو اسے نکال لو چنانچہ وہ نکال لیں گے ۱؎ حالانکہ جل چکے ہوں گے اور کوئلے ہوگئے ہوں گے پھر وہ نہر حیوٰۃ میں ڈالے جائیں گے۲؎ تو ایسے اُگیں گے جیسے دانہ سیلاب کے اوپر کوڑے میں اُگتا ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ دانہ اولًا پیلا ٹیڑھا نکلتا ہے۳؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یہ خطاب حضرات انبیاء کرام،فرشتوں اور جنتی مؤمنوں سے ہوگا کہ دوزخ میں جاؤ گنہگاروں کو نکال کر لاؤ کہ یہ سارے حضرات ہی یہ کام کریں گے۔ ۲؎ نہر حیوٰۃ وہی چشمہ ہے جس کا ذکر ابھی گزرا کہ یہ جنت کے دروازے پر واقع ہے،چونکہ اس پانی میں ان مردوں کو زندہ کرنے کی تاثیر ہوگی اس لیے اسے نہر حیوٰۃ کہتے ہیں۔ ۳؎ یعنی جیسے دانہ جب اُگتا ہے تو نہایت کمزور پیلا اور ٹیڑھا ہوتا ہے پھر ہوا پانی دھوپ پاکر بہتر قوی اور سیدھا ہوجاتا ہے یہ ہی حال ان لوگوں کا ہوگا کہ اس پانی سے اولًا جئیں گے اُگیں گے مگر کمزور زرد رنگ بعد میں قوت پائیں گے۔