Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
417 - 4047
حدیث نمبر 417
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہاں ۱؎ کیا تم صاف دوپہری میں جب سورج کے ساتھ بادل نہ ہو سورج کے دیکھنے میں شک کرتے ہو۲؎  اور کیا تم  چودھویں صاف رات میں جب کہ  چاند کے ساتھ بادل نہ ہو  چاند دیکھنے میں شک کرتے ہو عرض کیا یارسول اللہ نہیں۳؎ فرمایا تم قیامت کے دن اللہ کے دیدار میں شک نہیں کرو گے مگر ایسا جیسے ان دونوں میں سے ایک کے دیکھنے میں شک کرتے ہو۴؎ جب قیامت کے دن ہوگا تو اعلانچی اعلان کرے گا کہ ہر گروہ اس کے پیچھے جائے جس کی وہ پرستش کرتا تھا ۵؎ تو جو بھی اللہ کےسوا بتوں اور پتھروں کی عبادت کرتے تھے اسمیں کوئی نہ بچے گا مگر دوزخ میں گرجائیں گے ۶؎ حتی کہ جب ان نیک بندوں کے سواء جو اللہ کی عبادت کرتے تھے کوئی نہ بچے گا تو انکے پاس رب العالمین آئے گا ۷؎ فرمائے گا تم کیا انتظارکررہے ہو ہر امت اپنے معبود کے ساتھ جارہی ہے ۸؎ پھر عرض کریں گے یارب ہم نے دنیا میں ان لوگوں کوچھوڑ ے رکھا جب کہ ہم ان کے بہت حاجت مند تھے اور ہم انکے ساتھ نہ رہے ۹؎  اور جناب ابوہریرہ کی روایت میں ہے کہ کہیں گے یہ ہی ہماری جگہ ہے حتی کہ ہمارے پاس ہمارا رب آوے پھر جب ہمارا رب جلوہ گر ہوگا ہم اسے پہچان لیں گے۱۰؎  اور جناب ابو سعید کی روایت میں ہے کہ رب فرمائے گا کہ کیا تمہارے اور اس کے درمیان کوئی نشانی کہ تم اسے پہچان لو گے وہ کہیں گے ۱۱؎ ہاں تو رب پنڈلی کھولے گا ۱۲؎ تو ان میں سے جو دل کے اخلاص سے رب کو سجدہ کرتے تھے کوئی نہ رہے گا مگر اللہ اسے سجدہ کی اجازت دے گا۱۳؎  اور جو لوگ اپنے بچاؤ اور دکھلاوے کے لیے سجدہ کرتے تھے ان میں سے کوئی نہ بچے گا مگر اللہ اس کی پیٹھ ایک تختہ بنادے گا۱۴؎  وہ جب بھی سجدہ کا ارادہ کرے گا اپنی پیٹھ پر گر جاوے گا ۱۵؎ پھر دوزخ پر پل رکھا جاوے گا۱۶؎ اور شفاعت واقع ہوگی۱۷؎  اور کہیں گے الٰہی سلامت رکھ سلامت رکھ ۱۸؎  تو مسلمان پلک جھپکنے کی طرح اور بجلی کی طرح اور ہوا کی طرح پرندے کی طرح اور تیز گھوڑے کی طرح اونٹ کی طرح ۱۹؎ گزریں گے،بعض تو نجات پائیں گے سلامت رہیں گے،بعض زخمی ہو کر چھوڑ دیئے جائیں گے ۲۰؎ بعض دوزخ کی آگ میں گرا دیئے جائیں گے۲۱؎ حتی کہ جب مسلمان آگ سے خلاصی پالیں گے تو اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے نہیں ہے تم میں سے کوئی زیادہ جھگڑنے والا اپنے اس حق میں جو تمہیں ظاہر ہوجاوے بمقابلہ مسلمانوں کے جو وہ اللہ سے جھگڑیں گے قیامت کے دن اپنے دوزخی بھائیوں کے لیے۲۲؎  عرض کریں گے یارب وہ لوگ ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے نمازیں پڑھتے تھے اور حج کرتے تھے۲۳؎  تو ان سے کہا جاوے گاکہ جنہیں تم پہچانتے ہو نکال لو ان کی صورتیں آگ پر حرام کردی جائیں گی۲۴؎  یہ لوگ بڑی خلقت کو نکال لائیں گے پھرکہیں گی یارب جن کے متعلق تو نے ہم کو حکم دیا تھا ان میں سے تو کوئی باقی نہ رہا ۲۵؎ رب فرمائے گا واپس جاؤ جس کے دل میں دینار برابر بھلائی پاؤ اسے نکال لو تو وہ بڑی خلقت کو نکال لائیں گے پھر فرمائے گا لوٹ جاؤ جس کے دل میں زرہ برابر بھلائی پاؤ اسے نکال لو وہ بڑی خلقت کو نکال لائیں گے پھر فرمائے گا واپس جاؤ جس کے دل میں آدچھی دینار برابر بھلائی پاؤ اسے نکال لو۲۶؎  چنانچہ وہ بہت ہی خلقت کو نکال لائیں گے پھر فرمائے گالوٹ جاؤ جس کے دل میں ذرہ برابر بھلائی پاؤ اسے نکال لو وہ بڑی خلقت کو نکال لائیں گے ۲۷؎  پھر عرض کریں گے یارب ہم نے دوزخ میں کسی بھلائی والے کو نہ چھوڑا ۲۸؎  تب اللہ تعالٰی فرمائے گا کہ فرشتوں نے شفاعت کرلی رسولوں نے شفاعت فرمالی مؤمنوں  نے شفاعت کرلی ۲۹؎  اب سواء ارحم الراحمین کے اور کوئی باقی نہ رہا۳۰؎  تب آگ میں سے ایک مٹھی بھرے گا تو ان لوگوں کو وہاں سے نکال دے گا جنہوں نے کبھی کوئی بھلائی نہیں کی ۳۱؎ جو کوئلے ہوچکے ہوں گے ۳۲؎  انہیں اس نہر میں ڈالے گا جو جنت کے دہانوں میں ہے جسے زندگی کی نہر کہا جاتا ہے تو وہ یوں اگیں گے جیسے دانہ سیلاب کے اوپر کے کوڑا میں اگتا ہے۳۳؎ پھر وہ نکلیں گے موتی کی طرح ان کی گردنوں میں مہریں ہوں گی۳۴؎ انہیں لوگ کہیں کے کہ یہ اللہ کے آزاد کردہ ہیں جنہیں رب نے بغیر عمل کیے ہوئے بغیر بھلائی آگے بھیجے ہوئے جنت میں داخل فرمادیا۳۵؎ تو ان سے کہا جاوے گا کہ تمہارے لیے وہ ہے جو تم نے دیکھا اور اس کی مثل ۳۶؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ خیال رہے کہ قیامت میں حساب کے وقت سارے بندے رب کو دیکھیں گے مؤمن ہویا کافر مگر مؤمن بہ شان رحمت دیکھیں گے اور کافر بہ شان غضب جیساکہ پچھلی حدیث میں گزرچکا۔پھر اس کے بعد جنتی تو رب تعالٰی کو دیکھا کریں گے کوئی تو جب چاہیں اور کوئی روز ایک بار،کوئی ہفتہ میں ایک بار،کوئی مہینہ میں،کوئی سال میں ایک بار،کوئی اس سے زیادہ عرصہ میں مگر دوزخی لوگ دیدار سے محروم رہیں گے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّہُمْ عَنۡ رَّبِّہِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوۡبُوۡنَ"جنتیوں کے بارے میں فرماتاہے:"اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ"۔ غالبًا یہاں سوال قیامت کے دن کے دیدار کے متعلق ہے جنتی عورتوں،فرشتوں،مغفور جنات کے متعلق اختلاف ہے۔بعض کہتے ہیں انہیں بھی دیدار ہوگا بعض کہتے ہیں نہیں ہوگا۔(مرقات)

۲؎  تضارون باب مفاعلہ کا مضارع معروف ہے،ضار یضار مضارۃ کے معنی ہیں اژدھام اور بھیڑ میں پھنس جانا،پھر شک کے معنی میں استعمال ہونے لگا کیونکہ بھیڑ میں کوئی چیز صحیح نہیں دیکھی جاتی۔صحو کی معنی ہیں صاف جب کہ آسمان پر بادل نہ ہو تو اسے صحو کہتے ہیں۔

۳؎  سبحان اللہ! کیسی پیاری تشبیہ ہے جس میں یقینی دیدار کی مثال دے کر سمجھایا گیا۔خیال رہے کہ قمر عام ہے اور ہلال،بدر، محق خاص ہے۔

۴؎  مطلب یہ ہے کہ ان دونوں کے دیکھنے میں تو شک ہوتا نہیں تو یقینًا رب تعالٰی کے دیدار میں بھی شک نہیں ہوگا۔

۵؎  خیال رہے کہ قیامت میں رب کا دیدار دوبار ہوگا پہلی بار تو حساب کے وقت جیساکہ پہلے گزرچکا دوسری بار حساب سے فارغ ہوکر،یہ دوسرا دیدار صرف مسلمانوں کو ہی ہوگا کفار کو نہ ہوگا جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے لہذا یہ حدیث پچھلی احادیث کے خلاف نہیں۔اس موقعہ پر بت پرستوں کے تمام بت حتی کہ سورج،چاند بھی وہاں موجود ہوں گے۔خیال رہے کہ حضرت عیسیٰ و مریم کو عیسائیوں نے اور حضرت عزیر کو یہود نے نہیں پوجا بلکہ ان کے فوٹوؤں کو اور صلیب کو پوجا تھا وہ لوگ ان تصویروں اور صلیب کے ساتھ دوزخ میں جائیں گے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ پھر تو چاہیے کہ یہ حضرات بھی دوزخ میں جائیں انہیں یہود یا عیسائیوں نے پوجا تھا۔

۶؎  بتوں میں سورج چاند بھی داخل ہیں کہ ان کی پرستش بھی ہوتی تھی۔خیال رہے کہ یہ چیزیں دوزخ میں جائیں گی مگر سزا پانے کے لیے نہیں بلکہ دوزخیوں کو سزا دینے کے لیے حتی کہ سورج کی گرمی آگ کی گرمی سے مل کر ان لوگوں کی تکلیف کو اور بھی زیادہ کردے گی لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ ان پتھروں بتوں کو بلا قصور دوزخ میں کیوں ڈالا گیا اسی طرح دوزخ میں مقرر شدہ فرشتے عذاب دیں گے عذاب پائیں گے نہیں۔

۷؎  رب تعالٰی کے آنے سے مراد ہے اس کا حکم آنا یا یہ متشابہات میں سے ہے،اس ظاہری آنے جانے سے رب پاک ہے۔

۸؎ یعنی تم لوگ بھی ان سے کسی کے ساتھ کیوں نہیں جاتے،رب تعالٰی کا یہ سوال اس کی بے علمی کی بنا پر نہیں بلکہ اس جواب کے لیے  ہے جو وہ دے رہے ہیں۔خیال رہے کہ مشرکین تو  اپنے معبودوں کے ساتھ دوزخ میں جائیں گے مؤمن اپنے نبیوں کے ساتھ اور یہ امت اپنے حضور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ جنت میں جاوے گی۔رہے توحیدی کفاریا دھریے کفار جو بت پرستی نہیں کرتے تھے انہیں فرشتے ہانک کر دوزخ میں ڈالیں گے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ دھریے اور توحیدئیے کفار کس کے ساتھ جائیں۔

۹؎  یعنی جب ہم دنیا میں کفار سے الگ رہے تو اب بھی ان سے الگ ہی رہیں گے  وہاں تو  ہم کو ان کے ساتھ رہنے کی ضرورت بھی تھی یہاں تو ہم ان سے بے نیاز ہیں ان کے ساتھ ہم کیوں جائیں۔

۱۰؎  یہاں آنے سے مراد تجلی فرمانا اپنا جمال دکھانا  ہے۔ خیال رہے کہ مسلمان قبر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو  اور قیامت  میں رب تعالٰی کو  تعلق ایمان سے  پہچانیں گے اگرچہ اس سے پہلے انہوں نے کبھی دیدار نہ کیا تھا وہاں پہچان رشتہ ایمان سے ہوگی۔

۱۱؎  وہ علامت و نشانی محبت الٰہی ہے جو ایمان و عرفان کا نتیجہ ہے اس ذریعہ سے ہم رب تعالٰی کو پہچان لیں گے۔

۱۲؎  پنڈلی کھولنے کی بہت توجیہیں کی گئی ہیں مگر صحیح تر یہ ہے کہ یہ متشابہات میں سے ہے رب تعالٰی پنڈلی وغیرہ سے پاک ہے۔بعض نے فرمایا کہ اس سے ان لوگوں کی پنڈلی مراد ہے یعنی ان پر ایسی تکلیف نازل ہوگی کہ ان کی پنڈلی کھل جائے گی،بعض نے فرمایا کہ اس  سے رب تعالٰی کی پنڈلی مرا دہے جو اس کے شان کے لائق ہے،بعض نے فرمایا کہ اس سے رب تعالٰی کی تجلی صفات مراد ہے۔ اللہ اعلم  بمراد حبیبہ صلی اللہ علیہ و سلم۔

۱۳؎  سبحان اللہ! مزے دار سجدہ یہ ہوگا اب تک بغیر دیکھے سجدے کیے تھے آج مسجودلہ کی تجلی دیکھ کر سجدے کریں گے۔

کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں	کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبیں نیاز میں

۱۴؎ یعنی ان ریاکار منافقوں کی پیٹھ اکڑ جاوے گی ٹیڑھی نہ ہوسکے گی اور سجدہ میں پیٹھ خم ہونا ضروری ہے اس لیے بجائے سجدہ کے اوندھے گریں گے۔

۱۵؎  یہ سجدہ مخلصین و منافقین میں چھانٹ ہوگا جو درست سجدہ کرلے گا وہ مخلص مؤمن ہے،جو نہ کرسکے گا وہ منافق۔اس سے معلوم ہوا کہ یہ دیدار الٰہی منافقین کو بھی ہوگا۔(مرقات)مگر مؤمنوں  کو محبت والا دیدار ہوگا منافقوں کو ہیبت بلکہ وحشت والا۔

۱۶؎  اس فرمان عالی سے معلوم ہوتا ہے کہ پل صراط آج قائم نہیں ہے قیامت میں اس وقت قائم کیا جائے گا،اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو دوزخی اس سے پہلے دوزخ میں پہنچائے گئے وہ پل صراط سے نہ گزارے گئے کہ پل تو ان کے دوزخ میں پہنچنے کے بعد قائم کیا گیا۔

۱۷؎  اس شفاعت سے مراد ہے دوزخ سے گزارنے کی شفاعت ورنہ بہت سی شفاعتیں اس سے پہلے ہوچکیں،اب جب کہ دوزخ پر سے گزرنے کا وقت آیا تو اللہ کے مقبول بندے شفاعت میں مشغول ہوگئے،اسی شفاعت سے ہم گنہگار ان شاءاﷲ بخیریت گزریں گے۔

۱۸؎  جب تک سارے مؤمنین بخیریت گزر نہ جائیں گے تب تک انبیاءکرام سلم سلم کہتے رہیں گے صرف دوبار ہی نہ کہیں گے۔اعلٰی حضرت نے کیا خوب فرمایا شعر

پل سے گزارو راہ گزر کو خبر نہ ہو		جبریل پر بچھائیں تو پر کو خبر نہ ہو

۱۹؎ یعنی مؤمن اپنے اعمال و تقویٰ و اخلاص کے مطابق پل سے گزریں گے۔رکاب جمع ہے مگر اس کا واحد کوئی نہیں۔ (مرقاۃ)جیسے نساء کا واحد کوئی نہیں اور امراۃ کی جمع کوئی نہیں یعنی پل سے پار لگنے والوں کی رفتاریں مختلف ہوں گی بعض رفتار ایسی تیز جیسے نگاہ کی رفتار،بعض کے ہوا کی سی رفتار،آ ج ایسے ہوائی جہاز تیار ہوچکے ہیں جن کی رفتار آواز سےزیادہ ہے  لہذا  ان رفتاروں پر حیرت نہیں کرنی چاہیے۔

۲۰؎  پلصراط کے کنارے پر دو طرفہ جگہ جگہ ٹیڑھے کانٹے یعنی کنڈے لٹکے ہوئے ہیں جو بار بار اوپر آتے اور گزرنے والوں کو لگتے ہوں گے،بعض لوگوں کو یہ کنڈے لگیں گے زخمی کرکے چھوڑ دیں گے،بعض لوگوں کے جسم میں داخل ہو کر انہیں نیچے کی طرف کھینچیں گے جس سے وہ دوزخ میں گرجاویں گے مخدوش سے ہی یہ مراد ہے،بعضوں کو یہ چھوئیں گے بھی نہیں وہ صحیح سلامت یہاں سے گزر جاویں گے،اللہ تعالٰی ہم گنہگاروں کو بخیریت پار لگادے۔

۲۱؎  مکدوش بنا ہے کدش سے بمعنی دفع یعنی پیچھے سے دھکیلنا۔یہ حال صرف کفار کا ہوگا جنہیں دوزخ میں ہمیشہ رہنا ہے۔(مرقات)بعض روایتوں میں مکدوش شین سے بمعنی ٹکڑے ٹکڑے کردینا،بعض میں مکروس رے سے بمعنی اوپر تلے ڈالنا۔خیال رہے کہ گنہگار مسلمانوں کو دوزخ میں اور طرح پہنچایا جاوے گا جس سے ان کی پردہ دری نہ ہو،انہیں سزا خفیہ دی جاوے گی رسوا نہ کیا جاوے گا۔

۲۲؎  یعنی نجات یافتہ مسلمان ان مسلمانوں کی سفارش میں رب تعالٰی سے جھگڑیں گے جو دوزخ میں پہنچ گئے،ان کا اپنے رب سے جھگڑنا اس سے بھی زیادہ ہوگا کہ جب کوئی مقدمہ میں جیت جائے تو اپنا حق ہارے ہوئے مدعیٰ علیہ سے مانگے بتاؤ وہ کیسی جلدی کرتا ہے ایسے ہی یہ جنتی رب تعالٰی سے جھگڑ جھگڑ کر کہیں گے کہ مولٰی انہیں سب کو جلدی سے دوزخ سے نکال دے یہ جھگڑنا ناز کا ہوگا نہ کہ بے ادبی کا۔

۲۳؎ یعنی وہ دوزخی مسلمان دنیا میں ان عبادات میں ہمارے ساتھ رہے آج ہمارے ساتھ جنت میں کیوں نہیں مولٰی تو ان کے گناہ معاف فرمادے جنت میں پہنچادے۔

۲۴؎ یعنی ان دوزخی مسلمانوں کی صورتیں نہ بگڑیں گی نہ جل کر کوئلہ ہوں گی۔ان شفاعت کرنے والوں جنتیوں کو حکم ہوگا کہ اچھا تم خود دوزخ میں جاؤ پہچان پہچان کر انہیں نکال لاؤ۔

۲۵؎  یعنی جو نمازی روزہ دار حاجی حضرات اپنے گناہوں کی وجہ سے دوزخ میں گئے تھے انہیں تو ہم نکال لائے اب بے عمل لوگ جو صرف گناہ کرتے تھے وہ ہی رہ گئے۔معلوم ہوا کہ ان جنتیوں کو دوزخ کی آگ تکلیف نہ دے گی اور یہ حضرات لوگوں کے دلوں کے ایمان کو پہچانیں گے تو حضور انور کے علم کا کیا کہنا۔

۲۶؎  اس کی شرح پہلے ہوچکی کہ ایمان کی زیادتی کمی مقدار کی نہیں بلکہ کیفیت کی زیادتی کمی مراد ہے یہ تشبیہ صرف سمجھانے کے لیے ہے۔

۲۷؎  یہ ذرہ برابر ایمان والے وہ لوگ ہوں گے جن کے عقیدے تو درست تھے باقی ان کے پاس کوئی نیک عمل نہ تھا اور گناہ ان سے بچا نہ تھا ہرقسم کے گناہ کرتے رہے مگر مرے مؤمن۔

۲۸؎  یہاں خیر سے مراد اہل خیر ہیں اور اہل خیر سے مراد شرعی ایمان والے حضرات ہیں یعنی جس کے دل میں رائی برابر شرعی ایمان تھا ہم اسے نکال لائے۔

۲۹؎  یعنی جو لوگ شفاعت کے لائق تھے ان کی شفاعت ہوچکی اور وہ شفاعت کے ذریعہ دوزخ سے نکل کر جنت میں پہنچ چکے۔اس سے معلوم ہوا کہ قیامت میں انسانوں کی شفاعت فرشتے بھی کریں گے جیسے آج حاملین عرش فرشتے مؤمن انسانوں کے لیے دعائیں کررہے ہیں جیسے رب تعالٰی فرماتا ہے۔

۳۰؎  اگرچہ اس سے پہلے بھی دوزخیوں کو رب تعالٰی نے ہی بخشاتھا مگر شفاعت کے وسیلہ سے اور ان نکالنے والوں کی معرفت سے اب ان کے نکلنے کی باری آئی جن کی بخشش کے لیے شفاعت مصطفوی کا وسیلہ تو ہے مگر انہیں دوزخ سے نکالنے میں کسی کا وسیلہ نہیں خود رب تعالٰی انہیں نکالے گا۔

۳۱؎  اس کی شرح پہلے گزرگئی کہ بعض شارحین فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے سواء کلمہ پڑھنے ایمان لانے کے اور کوئی نیکی نہیں کی مگر مرقات اور نووی شرح مسلم نے فرمایا کہ ان کے پاس صرف دل کے چھپے ایمان کے اور کچھ نہیں تھا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کاایمان شرعی نہ تھا یعنی ساترین۔خیال رہے کہ حضور کے والدین کریمین بلکہ سارے آباؤ اجداد جو ظہور نبوت سے پہلے وفات پاگئے دوزخ میں قطعًا نہیں جائیں گے کہ وہ حضرات اہلِ توحید تھے اور اس زمانہ میں صرف عقیدہ توحید نجات کے لیے کافی تھا ان سے کوئی گناہ سرزد نہ ہوا۔ گناہ وہ کام ہے جس سے رب تعالٰی منع کرے ان تک ممانعت پہنچی نہیں کہ انہوں نے زمانہ نبوت پایا نہیں۔

۳۲؎  اس سے معلوم ہوا کہ دوزخ میں جلتے رہنا موت نہ آنا کفار و مشرکین کے لیے ہوگا مؤمن گنہگار اور وہ لوگ جن کو دوزخ سے نکالا جانا ہے وہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے،ان کی جان نکال لی جاوے گی انہیں دائمی عذاب نہ ہوگا۔

۳۳؎  یعنی جو کوڑا سیلاب میں بہتا ہوا آجائے اس میں کوئی دانہ ہو وہ پانی کے اثر سے بہت جلد اُگ پڑتا ہے اس طرح وہ بڑھیں گے۔

۳۴؎  یعنی پہلے وہ کالے کوئلے تھے اب جو بڑھیں گے تو موتیوں کی طرح سفید چمکیلے ہوں گے،ان کی گردنوں میں سونے کا زیور پڑا ہوگا جس سے وہ پہچانے جائیں گے کہ یہ لوگ بغیرعمل جنت میں آئے یا یہ لو گ عنداللہ مؤمن تھے شرعی ساتر تھے۔

۳۵؎  یعنی ان لوگوں کا لقب ہوگا عتیق الرحمن،نام ان کے وہ دنیا والے ہوں گے وہ لوگ اسی لقب سے بڑے خوش ہوا کریں گے۔

۳۶؎  یعنی جہاں تک تمہاری نظر کام کرتی ہے وہ بھی اور اس کی مثل اتنا ہی اور علاقہ بھی ہے ان کی نعمتوں کے تم کو دیا گیا۔خیال رہے کہ ان لوگوں کو صرف فضل کی جنت ملے گی اور مؤمنوں  عاملین کو عمل کی جنت بھی ملے گی اور فضل کی بھی،رب فرماتاہے:"وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتَانِ"اور دو جنتوں سے یہ ہی عدل و فضل کی جنتیں مراد ہیں۔(مرقات)
Flag Counter