Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
416 - 4047
حدیث نمبر 416
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو ابن عاص سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے رب تعالٰی کا یہ کلام تلاوت کیا جو حضرت ابراہیم کے متعلق ہے ۱؎  یارب ان بتوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کیا تو جس نے میری پیروی کی وہ تو میرا ہوگیا۲؎  اور جناب عیسیٰ کہیں گے اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں۳؎  تو حضور نے اپنے ہاتھ اٹھائے عرض کیا الٰہی میری امت اور روئے۴؎  تو اللہ تعالٰی نے فرمایا اے جبریل جناب محمد کے پاس جاؤ تمہارا رب خوب جانتا ہے مگر ان سے پوچھو انہیں کیا چیز رُلا رہی ہے ۵؎ تو حضور کے پاس حضرت جبریل آئے حضور سے پوچھا انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی عرض و معروض کی خبر دی ۶؎ تو اللہ تعالٰی نے حضرت جبریل سے فرمایا تم جناب محمد کے پاس جاؤ کہو کہ ہم تم کو تمہاری امت کے معاملہ میں راضی کرلیں گے تمہیں غمگین نہ کریں گے ۷؎ (مسلم)
شرح
۱؎  ظاہر یہ ہے کہ حضور انور نے نماز کے باہر یہ آیت کریمہ سورۂ ابراہیم کی تلاوت فرمائی جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔

۲؎ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالٰی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وہ عرض معروض بیان فرمارہا ہےجو آپ قیامت میں بطور  شفاعت عرض کریں گے کہ خدایا جن لوگوں نے میری اطاعت کی وہ تو میرے ہوچکے تو انہیں میرے طفیل بخش دے اور جنہوں نے میری نافرمانی کی تومولٰی تو گنہگاروں کا بخشنے والا ہے۔غرضکہ شکایت ان کی بھی نہیں کی انہیں بھی بددعا نہ دی یہ ہے شان جمالی۔

۳؎  اس پوری آیت میں عیسیٰ علیہ السلام کی شفاعت کا ذکر ہے وہ بھی جمال الٰہی کا مظہر ہیں۔آپ کی عرض بھی یہ ہے کہ میرے مولٰی اگر تو ان گنہگاروں کو عذاب دے تو تو ان کا رب ہے وہ تیرے بندے،کون تجھے عذاب سے روک سکتا ہے اور تو انہیں معافی دے دے تو تو عزیز ہے حکیم ہے،تیرے ہر کام میں حکمت ہے،تو سب پر غالب ہے جسے جو چاہے دے دے تجھ سے کوئی پوچھ نہیں سکتا۔

۴؎  یعنی ان دو محبوب نبیوں کی شفاعت کا ذکر پڑھا تو شفیع المذنبین کا دریائے رحمت جوش میں آگیا اپنی گنہگار امت یاد آگئی اور اس وقت شفاعت فرمائی۔معلوم ہوا کہ قرآن مجید میں جیسی آیت تلاوت کرے اسی طرح کی دعا مانگے یہ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہے۔دعا کے وقت روناعلامت قبولیت ہے پھر حضور انور کا رونا حضور کے آنسو سبحان اللہ! حضور کا رونا ہماری ہنسی و خوشی کا ذریعہ ہے بادل روتا ہے تو چمن ہنستا ہے۔شعر

تانہ گریہ ابر کے خند و چمن			تابہ گرید طفل کے جوشد لبن

۵؎ سبحان اللہ! کس ناز کا سوال ہے خود جانتا ہے مگر پوچھتا ہے تاکہ محبوب صراحۃً زبان پاک سے شفاعت کریں اورامت گنہگار کی مشکلیں حل ہوں دریا ئے بخشش الٰہی جوش میں آئے۔

۶؎  کہ امت کی فکر ان کا غم میرے رونے کا سبب ہے۔خیال رہے کہ رونا بہت قسم کا ہے ان تمام قسموں میں افضل حضور کا شفاعت امت کے لیے رونا ہے۔

۷؎  یعنی آپ اپنی امت کے متعلق جو چاہیں گے جو کہیں گے ہم وہ ہی کریں گے۔احادیث میں ہے کہ اس پر حضور انور نے عرض کیا کہ تیری عزت کی قسم میں اس وقت تک راضی نہ ہوں گا جب تک کہ میرا ایک امتی بھی دوزخ میں ہو، خدا کرے ہم امتی رہیں۔(اشعہ) مرقات نے بھی اسی کے قریب فرمایا یہاں مرقات نے شفاعت ابراہیمی،شفاعت عیسوی اور شفاعت محمدی میں بہت شاندار فرق بیان فرمایا کہ ان حضرات نے اجمالی شفاعت کی مگر حضور انور نے اپنی امت کا نام لے کر تفصیلی شفاعت فرمائی کہ گنہگار ہو مگر میرا امتی ہو اسے بخش دے۔شعر

خاک اوباش وبادشاہی کن 			آن اوباش ہرچہ خواہی کن 

نیز اس شفاعت میں اگر مگر نہیں جزم کے ساتھ دعا ہے کہ اسے ضرور بخش دے۔اس حدیث سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی بڑی شان،امت پر بڑا کرم،امت محمدیہ کا بڑا خوش نصیب ہونا معلوم ہوا۔سارے بندے اللہ کی رضا چاہتے ہیں اللہ تعالٰی حضور کو راضی کرنا چاہتا ہے۔اس کی تائید یہ آیت کررہی ہیں"وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی"حضرت ابوبکر صدیق کے لیے بھی فرمایا:"وَ لَسَوْفَ یَرْضٰی"۔
Flag Counter