۱؎ حضرت حذیفہ نے پوری حدیث شفاعت بیان کی اس طرح جو بھی ذکر کی گئی مگر اس حدیث میں یہ زیادتی اور ہے۔
۲؎ امانت داری مؤمن کی ایک پاکیزہ صفت ہے اس کی بہت قسمیں ہیں: بات کی،مال کی،عزت و آبرو کی امانت داری۔ اس کا مقابل ہے خیانت جو انسان کا بڑا عیب ہے۔رحم سے مراد ہے آپس کی نسبتی قرابت داریاں یہ بہت قسم کی ہیں یہ دونوں شکل والی چیزیں ہوں گی وہاں اوصاف اعراض کی شکلیں ہوں گی وہ کلام کریں گی۔
۳؎ یہ ان دونوں وصفوں کی انتہائی تعظیم ہوگی کہ ان دونوں کو پل صراط کے آس پاس کھڑا کیا جاوے گا شفاعت اور شکایت کے لیے کہ ان کی شفاعت پر نجات ان کی شکایت پر پکڑ ہوگی۔اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ انسان امانت داری اور رشتہ داروں کے حقوق کی ادائیگی ضرور احتیاط کرے کہ ان دونوں میں کوتاہی کرنے پر سخت پکڑ ہے مگر انکی شفاعت پر دوزخ سے نجات ہے انکی شکایت پر وہاں گرتا ہے۔