| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس گوشت لایا گیا تو آپ کی خدمت میں دستی پیش کی گئی حضور کو دستی پسندتھی ۱؎ تو آپ نے اس میں سے نوچ کر کھایا ۲؎ پھر فرمایا میں قیامت کے دن لوگوں کا سردار ہوں۳؎ جس دن لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے۴؎ اور سورج قریب ہوگا لوگوں کو اس قدر غم و تکلیف پہنچے گی جس کی وہ طاقت نہ رکھیں گے ۵؎ پھر لوگ کہیں گے تم کسی ایسے شخص کو کیوں نہیں دیکھتے جو تمہارے رب کی بارگاہ میں تمہاری شفاعت کرے ۶؎ چنانچہ وہ آدم علیہ السلام کےپاس آئیں گے اور شفاعت کی حدیث ذکر فرمائی اور فرمایا کہ پھر میں چلوں گا تو عرش کے نیچے پہنچوں گا پھر اپنے رب کے حضور سجدہ میں گروں گا ۷؎ پھر اللہ مجھ پر اپنی وہ حمد وہ اچھی ثنائیں کھولے گا جو مجھ سے پہلےکسی پر نہ کھولی تھیں ۸؎ پھر فرمائے گا اے محمد اپنا سر اٹھاؤ مانگو دیئے جاؤ گے،شفاعت کرو قبول کی جاوے گی ۹؎ تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا عرض کروں گا یارب میری امت میری امت تو کہا جاوے گا ۱۰؎ اے محمد اپنی امت میں سے ان لوگوں کو جن پر حساب نہیں ۱۱؎ جنت کے دروازوں میں سے داہنے دروازے سے داخل کرو یہ لوگ دروازوں میں لوگوں کے ساتھ برابر کے حق دار ہیں۱۲؎ پھر فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے جنت کے دروازوں میں سے ایک کی دو چوکھٹوں کے درمیان۱۳؎ اتنا فاصلہ ہے جتنا مکہ معظمہ اور ہجر کے درمیان ہے۱۴؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ دستی کا گوشت بے ریشہ ہوتا ہے اور نرم بھی مزے دار بھی،جلد گل جاتا ہے،سارے جانور میں یہ ہی گوشت بہت اچھا ہوتا ہے۔ ۲؎ نھس خالی سین سے اگلے دانتوں سے نوچنا اور نہش نقطہ والے شین سے داڑھوں سے گوشت نوچنا یعنی ہڈی سے بوٹی چھوڑانا دونوں لفظ روایات میں وارد ہیں۔ ۳؎ اس ناس میں سارے انسان داخل ہیں حضرات انبیاء کرام اور ان کی ساری امتیں،اگرچہ حضور ہمیشہ سے ہی ساری مخلوق کے سردار ہیں مگر اس سرداری کا ظہور قیامت کے دن ہوگا کہ سارے لوگ آپ سے شفاعت کی درخواست کریں گے اور سب حضور کا منہ تکیں گے کوئی آپ کی سرداری کے انکار کرنے کی ہمت نہ کرسکے گا کفار بھی اس کا اقرار کریں گے اور نادم ہوں گے اس لیے یوم القیامۃ کا ذکر فرمایا۔ ۴؎ یہ یوم القیامۃ کا بیان ہے،چونکہ یہ حاضری بارگاہ قیامت کا مقصود ہے اس لیے اس کا ذکر پہلے فرمایا ورنہ قیامت میں اور بھی کام ہوں گے جیسے کہ آگے سے معلوم ہورہا ہے۔ ۵؎ گرمی کی شدت کا یہ حال ہوگاکہ انسان کا پسینہ ستر گز زمین میں جذب ہوکر اس کے منہ کی لگام بن جائے گا یعنی منہ تک پسینہ میں آدمی ڈوبا ہوگا۔ ۶؎ معلوم ہوا کہ قیامت کے کاروبار کی ابتداء توسل یعنی وسیلہ کی تلاش سے ہوگی۔آج جو حضور کے وسیلہ کے منکر ہیں وہ بھی یہ ہی کام پہلے کریں گے۔اعلٰی حضرت نے کیا خوب فرمایا شعر ہم بھی محشر میں سیر دیکھیں گے نجدی آج ان سے التجا نہ کرے ۷؎ یہاں جہاں مجھے لوگ پائیں گے اور ساری مخلوق مجھے گھیرے گی وہاں سے روانہ ہوکر اپنے مقام شفاعت میں پہنچوں گا جو میرے لیے خالص تیار کیا گیا ہے۔غالب یہ ہے کہ حضور انور ان سب کو لے کر وہاں پہنچیں گے۔واللہ و رسولہ اعلم! وہ نظارہ عجیب ہوگا۔ ۸؎ یعنی اس دن جیسی حمد اپنے رب کی میں کروں گا ایسی حمد مخلوق الٰہی میں کسی نے نہیں کی ہوگی یہ حمد مجھے میرا رب بطور الہام سکھائے گا۔ ۹؎ اسے کہتے ہیں عرض سے پہلے قبولیت ابھی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے مدعا کے لیے لب نہیں ہلائے کہ قبولیت کا رب نے وعدہ فرمالیا۔ ۱۰؎ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں یہاں عبارت میں اجمال ہے۔ابتداء ہوئی شفاعت عامہ کے ذکر سے اور انتہاہوئی شفاعت خاصہ کے ذکر پر،یہ شفاعت اپنی امت کو جنت میں پہنچانے کی ہے عام لوگوں کے لیے شفاعت محشر سے نجات دلانے کی ہوگی۔ ۱۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ قیامت میں سب کا حساب نہ ہوگا،بعض بے حساب جنت میں بھیجے جائیں گے۔جو دنیا میں اپنا حساب خود لیتا رہے گا اس کا حساب یا تو ہوگا نہیں یاہوگا تو ہلکا ہوگا۔ ۱۲؎ یعنی ان بے حساب جنتیوں کے لیے ایک دروازہ خاص ہے جس سے دوسرے جنتی داخل نہیں ہوسکتے مگر یہ حضرات ان دروازوں سے جاسکتے ہیں جیسے ریل کا فسٹ کلاس کا مسافر ہر درجہ میں سفرکرسکتا ہے مگر تھرڈ والے فسٹ میں سفر نہیں کرسکتے۔ ۱۳؎ ایک دروازے کے حصے ہوں تو ہر حصہ مصرع کہلاتا ہے اس سے مقصود ہے دروازہ جنت کی چوڑائی بیان کرنا۔ ۱۴؎ ہجر مدینہ منورہ کے علاقہ میں ایک گاؤں کا نام بھی ہے اور بحرین کے ایک شہر کا نام بھی یہاں یہ ہی شہر مراد ہے جو بحرین میں ہے،اس تشبیہ سے مقصود ہے اس دروازے کی فراخی بیان فرمانا حد بندی فرمانا مقصود نہیں۔(اشعہ، مرقات)