۱؎ یعنی میری شفاعت سے ہر انسان کو حصہ ملے گا کافر ہو یا مؤمن،مخلص ہو یا منافق مگر پورا بہرہ ور میری شفاعت سے مؤمن ہی ہوں گے کہ وہ اس کی برکت سے دوزخ سے نجات پاجائیں گے۔عام کفار شفاعت کی وجہ سے محشر کی تکلیف سے نجات پائیں گے اور بعض کفار کے عذاب ہلکے ہوجائیں گے اس لیے یہاں اسعد فرمایا گیا۔(مرقات)اس کی اور بہت شرحیں کی گئیں ہیں۔
۲؎ لا الہ الا اللہ کہنے سے مراد ہے سارے عقائد اسلامیہ کا اقرار کرنا جیسے کہا جاتا ہے نماز میں الحمد پڑھنا واجب ہے یعنی پوری سورۂ فاتحہ پڑھنا۔خالصًا فرماکر منافقین کو علیحدہ فرمادیا گیا کہ وہ صرف زبان سے اسلام مانتے ہیں دل میں کافر ہوتے ہیں۔اخلاص کے ساتھ قلب کا ذکر صرف تاکید کے لیے ہے ورنہ اخلاص تو دل سے ہی ہوتا ہے جیسے رب فرماتاہے:"اٰثِمٌ قَلْبُہٗ"۔(مرقات)