Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
412 - 4047
حدیث نمبر 412
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو لوگ بعض بعض میں مخلوط ہوجائیں گے ۱؎ پھر حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے عرض کریں گے اپنے رب کی بارگاہ میں شفاعت کیجئے وہ فرمائیں گے میں اس کے لیے نہیں لیکن تم حضرت ابراہیم کا دامن پکڑو  وہ اللہ کے خلیل ہیں ۲؎  تو وہ حضرت ابراہیم کے پاس جائیں گے وہ بھی کہیں گے میں اس کے لیے نہیں لیکن تم جناب موسیٰ کو پکڑو  وہ اللہ کے کلیم ہیں تو وہ حضرت موسیٰ کے پاس جائیں گے وہ بھی کہیں گے اس کے لیے میں نہیں۳؎ لیکن تم حضرت عیسیٰ کو پکڑو کہ وہ روح اللہ اور کلمۃ اﷲ ہیں تو لوگ حضرت عیسیٰ کے پاس جائیں گے وہ کہیں گے اس کے لیے میں نہیں ہوں لیکن تم حضرت مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کرو۴؎ تو وہ میرے پاس آئیں گے میں فرماؤں گا ہاں میں اس کے لیے ہوں پھر میں اپنے رب سے اجازت مانگوں گا ۵؎ مجھے اجازت ملے گی اور ایسی حمدیں مجھے الہام کرے گا جو ابھی میرے علم میں حاضر نہیں ۶؎ میں ان حمدوں سے حمد کروں گا اور رب کے لیے سجدہ میں گرجاؤں گا پھر کہا جائے گا اے محمد اپنا سر اٹھاؤ کہو تمہاری سنی جاوے گی،مانگو دیئے جاؤ گے،شفاعت کرو قبول کیجاوے گی،میں عرض کروں گا یا رب میری امت میری امت ۷؎ تو فرمایا جاوے گا جاؤ اس کو نکالو جس کے دل میں جَو برابر ایمان ہو تو میں چلوں گا اور یہ عمل کروں گا ۸؎ پھر واپس لوٹوں گا انہی حمدوں سے رب کی حمد کروں گا پھر اس کے لیے سجدہ میں گروں گا تو کہا جاوے گا اے محمد اپنا سر اٹھاؤ،کہو سنی جاوے گی،مانگو تمہیں وہ دیا جاوے گا، شفاعت کرو قبول کی جاوے گی تو میں عرض کروں گا یا رب میری امت میری امت تو کہا جاوے گا چلو اسے نکال لو جس کے دل میں ذرہ یا رائی کے دانہ برابر ایمان ہو ۹؎ چنانچہ میں چلوں گا یہ عمل کروں گا پھر لوٹ کر آؤں گا تو رب کی انہیں حمدوں سے ثنا کروں گا،پھر اس کے لیے سجدہ میں گرجاؤں گا تو کہا جاوے گا اے محمد اپنا سر اٹھاؤ کہو سنی جاوے گی،مانگو تمہیں دیا جاوے گا،شفاعت کرو قبول کی جاوے گی تو میں کہوں گا یارب میری امت میری امت فرمایا جاوے گا ۱۰؎  جاؤ اسے نکال لو جس کے دل میں رائی کے دانہ سے کمتر ایمان ہوچنانچہ میں جاؤں گا اسے آگ سے نکال لاؤں گا چنانچہ ہم جائیں گے اوریہ کام کریں گے ۱۱؎  پھر میں چوتھی بار لوٹوں گا اور رب تعالٰی کی حمد و ثنا انہیں محامد سے کروں گا،پھر میں اس کے حضور سجدہ کناں عرض کروں گا تو کہا جاوے گا اے محمد سر اٹھاؤ،کہو سنی جاوے گی،مانگو دیئے جاؤ گے،شفاعت کرو قبول کی جاوے گی۱۲؎  تو میں عرض کروں گایارب مجھے اس کے متعلق اجازت دے جس نے لا الہ الا اللہ کہاہو۱۳؎  رب فرمائے گا یہ تمہارا نہیں لیکن میری عزت و جلالت اورکبریائی کی اور میری عظمت کی قسم میں وہاں سے اسے نکال دوں گا جس نے کہا لا الہ الا اللہ۱۴؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎  ماج بنا ہے موج سے بمعنی مخلوط ہونا،بے قرار ہونا۔یعنی اولًا تو لوگ محشر میں اکیلے اکیلے حیران کھڑے ہوں گے، بہت دراز عرصہ گزارنے پر بعض بعض سے ملیں گے اور مشورہ کریں گے۔اس ناس میں از آدم علیہ السلام تا روز قیامت سارے انسان داخل ہیں کافر ہوں یا مؤمن سواء حضرات انبیاء کرام کے،تلاش شفیع کے لیے سب ہی نکلیں گے حضرات انبیاء کرام نہ نکلیں گے اور ممکن ہے کہ ان لوگوں میں وہ لوگ شامل نہ ہوں جو عرش الٰہی کے سایہ میں ہوں گے کیونکہ انہیں کوئی تکلیف نہ ہوگی جس کو دفع کرانے کے لیے شفیع کو تلاش کریں مگر پہلا احتمال قوی ہے کہ یہ سارے لوگ ہی تلاش شفیع میں پھریں گے۔جو محشر میں گرفتار بلا ہیں وہ تو رہائی کے لیے شفیع ڈھونڈیں گے،دوسرے لوگ رسائی کے لیے کہ حساب شروع ہو رب کا دیدار اس سے ہم کلامی نصیب ہو۔

۲؎  یہاں ایک واسطہ کا ذکر نہیں فرمایا یعنی نوح علیہ السلام کا،حضرت آدم علیہ السلام بھیجیں گے نوح علیہ السلام کے پاس، وہ بھیجیں گے ابراہیم علیہ السلام کے پاس مگر چونکہ حضرت آدم کے بھیجنے سے نوح علیہ السلام کے پاس گئے ہوں گے اس لیے نوح علیہ السلام کا بھیجنا بالواسطہ آدم علیہ السلام کا بھیجنا ہے لہذا یہ حدیث گزشتہ کے خلاف نہیں وہاں تفصیل تھی اور یہاں اجمال ہے۔

۳؎  یہاں بھی کچھ اجمال ہے،پہلے لوگ ان سے شفاعت کے لیے کہیں گے اس کے جواب میں آپ یہ فرمائیں گے لست لھا کا مطلب یہ ہے کہ شفاعت کبریٰ میرا کام نہیں اس درجہ میں میں نہیں ہوں یہ کوئی اور ہی کرے گا ہم شفاعت صغریٰ کریں گے۔

۴؎  حضور تک پہنچتے پہنچتے لوگوں کو ہزار سال تک لگ جائیں گے اتنی بڑی بھیڑ میں تلاش کرنا آسان نہیں ہے نہ معلوم یہ حضرات کہاں کہاں ملیں گے۔

۵؎  پہلے کہا جاچکا ہے کہ یہ اجازت اس جگہ داخل ہونے کی ہے نہ کہ عرض و معروض کرنے کی،عرض و معروض کی اجازت تو سجدہ کرکے حاصل کی جاوے گی۔

۶؎  یعنی وہ صفات جن سے میں اس سجدے میں اللہ کی حمد کروں گا وہ مجھے ابھی نہیں بتائے گئے اس وقت ہی بتائے جائیں گے۔خیال رہے کہ ہم بذات خود رب تعالٰی کی حمد نہیں کرسکتے جب تک کہ ہم کو حضور نہ سکھائیں،ہماری حمد حضور کے سکھانے سے ہے اور حضور کی حمد رب تعالٰی کے سکھانے اور رب کی جیسی حمد حضور انور نے کی ہے اور کریں گے مخلوق میں کسی نے ایسی حمد نہ کی اسی لیے آپ کا نام احمد ہے۔اس سجدہ میں حضور انور رب کی بے مثال حمد کریں گے اور مقام محمود پر رب تعالٰی حضور انور کی ایسی حمد کرے گا جو کوئی نہ کرسکا ہوگا اس لیے حضور انور کا نام محمد ہے صلی اللہ علیہ و سلم۔خیال رہے کہ حضور انور کا علم واقعات کو گھیرے ہوئے ہے کہ ہر واقعہ حضور کے علم میں ہے  مگر اللہ تعالٰی کے اوصا ف کوئی نہیں گھیر سکتا  کہ اس کے اوصاف غیر محدود ہیں لہذا  یہ واقعہ حضور کے علم غیب کلی کے خلاف نہیں۔

۷؎  یعنی میری امت کو بخش دے میری امت کو بخش دے۔اللہ تعالٰی نے ہر نبی رسول کو ایک ایک خصوصی دعا عطا فرمائی تھی جس کی قبولیت کا پورا وعدہ فرمایا تھا،سارے نبیوں نے اپنی دعائیں دنیا ہی میں مانگ لیں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی وہ دعاء خاص محفوظ رکھی ہے اس دعا سے امت کی شفاعت فرمائیں گے۔یہ وہ ہی دعا ہے جس سے آپ شفاعت فرما رہے ہیں صلی اللہ علیہ وسلم۔

۸؎  خیال رہے کہ ایمان و اسلام میں حقدار کی زیادتی کمی ناممکن ہے کیونکہ یہ ایک بسیط چیز ہے جس کے اجزاء نہیں،ہاں کیفیات میں یا نتائج میں زیادتی کمی ہوسکتی ہے جیسے علم الیقین سے عین الیقین اور عین الیقین سے حق الیقین اعلٰی ہے مگر کیفیت میں،نیز بعض مؤمنین کو اعمال کی توفیق ملتی ہے بعض کو عرفانِ الٰہی،یہ نتیجہ میں فرق ہے جو وغیرہ کا ذکر اسی فرق کی بنا پر ہے لہذا احادیث واضح ہیں۔

۹؎  ذرہ سے مراد یا چھوٹی چیونٹی ہے یا ریت کا  ذرہ   یا  ھباء منثور یعنی جو    اندھیری کوٹھری میں کسی روزن سے دھوپ آنے سے اس میں باریک بارک روئیں اڑتے نظر آتے ہیں۔بہرحال مقصود ایمان کا ادنیٰ درجہ ہے جس کے ساتھ اور کوئی نیکی نہ ہو۔

۱۰؎  حمد الٰہی وہ ہی ہوگی شفاعت کے الفاظ بھی وہ ہی ہوں گے مگر ان سے فائدہ اٹھانے والے جدا گانہ پہلی بار اور لوگ نکالے گئے اس بار،دوسرے لوگ ہر بار میں مختلف گنہگار بخشے جائیں گے جیساکہ حدیث سے ظاہر ہے۔

۱۱؎ اس پوری حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم گنہگاروں کو نکالنے کے لیے دوزخ میں تشریف لے جائیں گے جس سے پتہ لگا کہ حضور ہم گنہگاروں کی خاطر ادنی جگہ پر تشریف لے جائیں گے ۔اگر آج میلاد شریف یا مجلس ذکر میں حضور تشریف لاویں تو ان کے کرم سے بعید نہیں ان سے ان کی شان نہیں گھٹتی ہمارے اور ہمارے گھروں کی شان بڑھ جاتی ہے۔شعر

ذیشان و شوکت سلطان نہ گشت چیزے کم		زالتفات    بمہماں    سرائے    دہقانے

کلاہ   گوشہ   دہقان   بہ   آفتاب   رسید		کہ سایہ برسر ش افگند چوں تو سلطانے

ہم نے عرض کیا ہے۔شعر

جو کرم سے اپنے شاہِ امم رکھیں مجھ غریب کے گھر قدم	مرے شاہ کی نہ ہو شان کم کہ گدا یہ ان کا پیار ہے 

ولے  مجھ  غریب  کا  غمکدہ  بنے  رشک  خلد  بریں  شہا		 کرے  ناز  اپنے  نصیب   پر   بلے  شاہ  وہ  جو  گنوار  ہے

دوسرے یہ کہ دوزخ کی آگ نور میں اثر نہیں کرسکتی حضور نور ہیں آگ سے تکلیف حضور کو نہیں پہنچ سکتی۔ہمارا نور نظر آگ سے نہیں جلتا بلکہ حضور کے خاص خدام بھی شفاعت کرنے دوزخ سے نکالنے کے لیے دوزخ میں کود جائیں گے انہیں بھی آگ نقصان نہیں دے گی۔تیسرے یہ کہ رب تعالٰی ہے بخشنے والا رحمت فرمانے والا مگر اپنی ساری نعمتیں حضور کی معرفت دیتا ہے۔دیکھو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی شفاعت سے ان لوگوں کو دوزخ سے رہائی دنیا میں بھی ہم کو قرآن،ایمان،اسلام،عرفان جو کچھ دیا سب رب نے دیا مگر حضور انور کے ذریعہ دیا بغیر ان کے واسطے کے کسی کو کچھ نہیں دیتا۔شعر

بے ان کے واسطے کے خدا کچھ عطا کرے		حاشا غلط یہ ہوس بے بصر کی ہے

حضور کی شفاعت پہلے ہوئی گنہگار کی رہائی بعد میں بلکہ رہائی شفاعت کے وجہ سے ہوئی۔چوتھے یہ کہ شرعی ایمان والوں کی حضور صرف شفاعت ہی نہیں کریں گے بلکہ شفاعت بھی کریں گے اور دستگیری بھی۔سجدہ کرکے عرض معروض کرنا شفاعت ہے،دوزخ میں جاکر انہیں نکالنا دستگیری ہے۔حضور دستگیر دو جہاں ہیں جو انہیں دستگیر مددگار نہ مانے وہ اس فرمان عالی کا منکر ہے۔پانچویں یہ کہ ایمان شرعی والوں کی حضور شفاعت و دستگیری دونوں کریں گے جن کا ایمان شرعی نہ تھا ان کی شفاعت تو فرمائیں گے دستگیری نہیں جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔

۱۲؎  خیال رہے کہ یہ چوتھی شفاعت ان لوگوں کے لیے ہے جو دنیا میں شرعی مؤمن نہ تھے عند اللہ مؤمن تھے ورنہ شرعی مؤمن تو ادنیٰ سے ادنیٰ بھی پہلی تین شفاعتوں سے دوزخ سے رہا کردیئے گئے ہیں اب یہ وہ ہی لوگ ہیں جو شرعًا مؤمن تھے ہی نہیں عنداللہ مؤمن تھے۔

۱۳؎ اس کے متعلق بڑی گفتگو ہے کہ یہ لا الہ الا اللہ کہنے والے کون لوگ ہیں۔بعض شارحین نے کہا یہ وہ لوگ ہیں جو عمر بھر کافر رہے مرتے و قت مؤمن ہو کر مرے عمل کوئی نہ کیا،بعض نے فرمایا کہ یہ گزشتہ امتوں کے کلمہ گو گنہگار لوگ ہیں نہ کہ حضور کی امت کے،یہ مرقات نے فرمایا مگر یہ دونوں توجیہیں کچھ ضعیف سی ہیں کیونکہ یہ دونوں تو مؤمن ہیں بلکہ پہلا شخص بے گناہ مؤمن ہے کہ اسے گناہ کا وقت نہیں ملا۔فقیر کے نزدیک یہ وہ لوگ ہیں جن کے دل میں ایمان تھا مگر زبان سے اس کا اقرار نہیں کیا،یہ لوگ اللہ کے نزدیک مؤمن ہیں شریعت میں کافر،جیسے ابو طالب وغیرہ انہیں شریعت میں ساتر کہتے ہیں اور جس کی زبان پر ایمان ہو دل میں کفر اسے منافق کہتے ہیں اور جو دل و زبان دونوں کا مؤمن ہو اسے مخلص مؤمن اور جو دل و زبان دونوں کا کافر ہوا اسے مجاہر کہا جاتا ہے۔فیمن قال میں قول سے مراد دلی قول ہے یعنی ماننا اور لا الہ الا اللہ سے مراد سارے اسلامی عقیدے ہیں لہذا حدیث بالکل واضح ہے۔اس میں منافقین یا دوسرے توحیدی عقیدہ رکھنے والے کفار داخل نہیں،صرف ساترین مراد ہیں لہذا موجودہ مرزائی چکڑالوی وغیرہ اس سے خارج ہیں۔

۱۴؎  یعنی ان ساترین کے متعلق تمہاری یہ چوتھی شفاعت قبول ہے مگر انہیں نکالنے کے لیے آپ کو تکلیف نہیں دی جائے گی کیونکہ وہ صراحۃً آپ کی امت میں داخل نہیں ہوئے اور دنیا میں ان پر شریعت کے احکام جاری نہیں ہوتے حتی کہ ان کا اسلامی کفن دفن نہیں کیا گیا،آج بھی مخلص مؤمن اور یہ ساترین تمہاری شفاعت سے تو نکلیں گے مگر تمہارے ہاتھوں سے نہیں کیونکہ دنیا میں ان کے ہاتھ میں تمہارا ہاتھ نہ تھا۔ہماری اس شرح سے  پتہ لگا کہ یہ لوگ بھی حضور کی شفاعت سے ہی نکلے،شفاعت سے کوئی بے نیاز نہیں اس لیے انہیں اس سجدہ سے اور شفاعت سے پہلے دوزخ سے نہیں نکالا گیا۔
Flag Counter