| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ مؤمنین قیامت کے دن روکے جائیں گے ۱؎ حتی کہ اس کی وجہ سے سخت غمگین ہوں گے تو کہیں گے کہ ہم اپنے رب کی بارگاہ کو شفیع لاتے کہ وہ کہیں اس جگہ سے راحت دے چنانچہ وہ حضرت آدم کے پاس حاضر ہوجائیں گے ۲؎ عرض کریں گے آپ انسانوں کےباپ ہیں اللہ نے آپ کو اپنے دستِ قدرت سے بنایا آپ کو اپنی جنت میں رکھا آپ کو اپنے فرشتوں سے سجدہ کرایا آپ کو ہر چیز کے نام بتائے اپنے رب کے پاس ہماری شفاعت کریں۳؎ کہ وہ ہم کو اس جگہ سے نجات دے،وہ فرمائیں گے کہ میں تمہارے اس مقام میں نہیں ہوں۴؎ اور اپنی وہ خطا یاد کریں گے جوا نہوں نے کی تھی یعنی درخت سے کھانا حالانکہ اس سے منع کیا گیا تھا ۵؎ لیکن تم حضرت نوح کے پاس جاؤ کہ وہ پہلے نبی ہیں جنہیں اللہ نے زمین والے کفار کی طرف بھیجا ۶؎ تو وہ حضرت نوح کے پاس آئیں گے وہ فرمائیں گے کہ میں تمہارے اس مقام میں نہیں ہوں اور اپنی وہ خطا یادکریں گے جو کی تھی یعنی اپنے رب سے بغیر جانے سوال کرنا۷؎ لیکن تم اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم کے پاس جاؤ فرمایا تو لوگ جناب ابراہیم کے پاس آئیں گے وہ کہیں گے کہ میں تمہارے اس مقام کا نہیں اور اپنی تین خلاف واقعہ باتیں یادکریں گے ۸؎ لیکن تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ بندے جنہیں اللہ نے توریت بخشی اور ان سے کلام کیا اور انہیں مشورہ کے لیے قرب بخشا فرمایا تو لوگ جناب موسیٰ کے پاس جائیں گے وہ فرمائیں گے میں تمہارے اس مقام کا نہیں اور اپنی وہ خطا یاد کریں گے جو انہوں نے کی یعنی ایک کاقتل ۹؎ لیکن تم حضرت عیسیٰ کے پاس جاؤ اللہ کے بندے اس کے رسول اللہ کی طرف سے روح اسکا کلمہ فرمایا پھر لوگ جناب عیسیٰ کے پاس جائیں گے وہ فرمائیں گے میں تمہارے اس مقام کا نہیں۱۰؎ لیکن تم حضور محمد مصطفی کے پاس جاؤ وہ بندے جن کی طفیل اللہ نے ان کے گنہگاروں کے سارے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے ۱۱؎ فرمایا تو سب میرے پاس آئیں گے تو میں اپنے رب کے پاس اس کے مقرر گھر میں حاضری کی اجازت مانگوں گا ۱۲؎ مجھے اجازت دی جاوے گی میں جب رب کو دیکھو ں گا تو سجدہ میں گرجاؤں گا پھر جتنا اللہ چاہے گا مجھے چھوڑے رکھے گا۱۳؎ پھر فرمائے گا اے محمد سر اٹھاؤ کہو تمہاری سنی جائے گی،شفاعت کرو قبول کی جاؤے گی،مانگو تم کو دیا جاوے گا۱۴؎ فرمایا تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا تو اللہ کی وہ حمدوثنا کروں گا جو وہ مجھے سکھائے ۱۵؎ گا پھر شفاعت کروں گا تومیرے لیے ایک حد مقرر کی جاوے گی میں وہاں سے چلوں گا انہیں آگ سے نکالوں گا اورجنت میں داخل کروں گا ۱۶؎ پھر دوسری بار لوٹوں گا اپنے رب سے اس کے گھر میں اجازت مانگوں گا۱۷؎ مجھے وہاں کی اجازت دی جاوے گی جب میں رب کو دیکھوں گا تو سجدہ میں گر جاؤں گا جتنا سجدے میں رہنا رب چاہے گا اتنا مجھے سجدے میں چھوڑے گا پھر فرمائے گا محمد سر اٹھاؤ اور کہو تمہاری سنی جائے گی شفاعت کرو قبول کی جاوے گی مانگو دیئے جاؤ گے فرمایا تب میں سر اٹھاؤں گا اپنے رب کی ایسی حمدوثنا کروں گا جو مجھے سکھائے گا پھر شفاعت کروں گا تو میرے لیے ایک حد مقرر کی جاوے گی میں روانہ ہوں گا انہیں آگ سے نکالوں گا جب جنت میں داخل کروں گا ۱۸؎ پھر میں تیسری بار لوٹوں گا اپنے رب سے اس کی جگہ میں اجازت مانگوں گا مجھے اس پر اجازت دی جاوے گی تو جب میں رب کو دیکھوں گا تو سجدہ میں گرجاؤں گا جب تک اللہ مجھے چھوڑے رکھنا چاہیے گا چھوڑے رکھے گا۱۹؎ پھر فرمائے گا محمد سر اٹھاؤ کہو تمہاری سنی جاوے گی شفاعت کرو قبول کی جاوے گی مانگو تمہیں دیا جاوے گا فرمایا تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا تو اپنے رب کی وہ حمدوثنا کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گاپھر شفاعت کروں گا۲۰؎ تو میرے لیے ایک حد مقرر کی جاوے گی پھر میں وہاں سے روانہ ہوں گا انہیں آگ سے نکالوں گا جنت میں داخل کروں گا حتی کہ آگ میں صرف وہ ہی رہ جائیں گے جنہیں قرآن نے روکا یعنی جن پر ہمیشگی ضروری ہوگئی ۲۱؎ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی قریب ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر اٹھائے فرمایا یہ مقام محمود وہ ہے جس کا تمہارے نبی سے وعدہ فرمایا ہے ۲۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ مؤمنین سے مراد آدم علیہ السلام روز قیامت سارے اہل ایمان ہیں،روکے جانے سے مراد میدان حشر میں کھڑا رہنا اور حساب کتاب کا انتظار کرنا ہے اس سے حضرات انبیاء علیحدہ ہیں۔ ۲؎ طلب شفیع کا ولولہ مسلمانوں کے دلوں میں پیدا ہوگا مگر تلاش میں کفار ساتھ ہوں گے سارے انسان ڈھونڈھیں گے۔معلوم ہوا کہ اللہ کے بندوں کا وسیلہ پکڑنا یہ وہ کام ہے جس سے قیامت کے کاموں کی ابتداء ہوگی وہاں پہلے یہ ہی کام وسیلہ والا ہوگا بعد میں دوسرے کام۔ ۳؎ معلوم ہوا کہ کسی سے کچھ مانگنا ہو تو پہلے اس کی تعریف کی جاوے بعد میں عرض و معروض اس لیے آج بھی پہلے ہم لوگ اﷲ کی حمد،حضور کی نعت و درود کے بعد دعا مانگتے ہیں۔مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے ان فضائل و کمالات کے ذریعہ ہماری شفاعت کریں۔ ۴؎ یعنی تمہاری شفاعت کبریٰ فرمانا میرا منصب میرا درجہ نہیں یہ دروازہ کسی اور ہی کے ہاتھ پر کھلنے والا ہے۔ ۵؎ آپ کا یہ قول رب تعالٰی سے انتہائی ہیبت و خوف کی بنا پر ہے کہ آپ اپنی وہ خطا یاد کر کے رب کے حضور جانے سے جھجکتے ہیں کہ کبھی میری اس خطا کا تذکرہ نہ آجاوے تو میں شفاعت کیسے کروں گا ورنہ رب تعالٰی نے معافی دے کر انہیں زمین کا خلیفہ بنایا،ان کی معافی کا اعلان توریت و زبور و انجیل و قرآن میں کیا گیا۔خوف و خشیت اور چیز ہے،رب تعالٰی کے وعدوں پر بے اعتباری کچھ اور،لہذا اس حدیث سے مسئلہ امکان کذب پر دلیل نہیں پکڑی جاسکتی۔ ۶؎ زمین سے مراد نوح علیہ السلام کی قوم کی زمین ہے جہاں وہ آباد تھی اور ساری کافر تھی سارے کفار کی طرف رسول پہلے آپ ہی ہیں۔حضرت آدم علیہ السلام و شیث،ادریس،صالح علیہم السلام مؤمنین یا مؤمن و کافر مخلوط کی طرف بھیجے گئے،بعض شارحین نے فرمایا کہ آپ سے پہلے حضرات نبی تھے رسول و مرسل نہ تھے پہلے رسول آپ ہی ہیں۔ ۷؎ یعنی میں نے اپنے کافر بیٹے کنعان کے متعلق رب تعالٰی سے عرض کیا تھا "اِنَّ ابۡنِیۡ مِنْ اَہۡلِیْ"وہ میرا اہل بیت ہے،اس پر رب نے فرمایاتھا:"اِنَّہٗ لَیۡسَ مِنْ اَہۡلِکَ"الخ،اگر اس کا تذکرہ آگیا تو میں تمہاری شفاعت کیسے کروں گا۔خیال رہے کہ نوح علیہ السلام نے کعنان کی شفاعت نہیں کی تھی کیونکہ آپ کایہ عرض کرنا اس وقت تھا جب کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہر چکی تھی،کنعان کو ڈوبے ہوئے عرصہ گزر چکا تھا جیساکہ قرآن کریم سے صراحۃً معلوم ہورہا ہے بلکہ مقصد یہ ہے کہ مولٰی میں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ میرے اہل طوفان سے محفوظ رہیں گے اور کنعان ڈوب گیا میں لوگوں کو کیا جواب دوں مگر چونکہ اس کے جواب پر ظاہر عتاب تھا اس لیے آج انہیں یہ خوف ہے سوالی بغیر علم کا مطلب یہ ہے کہ تم کو علم ہے کہ تمہارا اہل نہیں ورنہ سوال تو اس چیز کا ہوتا ہے جس کا علم نہ ہو۔ ۸؎ ایک یہ کہ میں بیمار ہوں دوسرے یہ کہ یہ کام اس بڑے نے کیا،تیسرے یہ کہ سارہ میری بہن ہے۔خیال رہےکہ یہ تینوں کلام سچے ہیں مگر ظاہر کے خلاف اس لیے آپ نے رب کے سامنے پیش ہونے سے انکار فرمایا،ہماری مراد دل کی بیماری یعنی کفار سے بیزاری ہے اور کبیرھم کا مقصد یہ ہے کہ اس بڑے بت نے دوسرے بت توڑے ہوں گے یہ کلام بطور استہزاء ہے بت پرستوں کی حماقت ظاہر کرنے کو اور حضرت سارہ کو دینی بہن فرمایا نہ کہ نسبی بہن۔ ۹؎ اس قتل سے مراد قبطی کوگھونسہ مار کر ہلاک کردینا۔خیال رہے کہ موذی کافر کو مار ڈالنا گناہ نہیں بلکہ عبادت ہے، نیز آپ نے قتل کا ارادہ نہیں کیا تھا،نیز اس خطا کی معافی کا اعلان بھی ہوچکا مگر ہیبت الٰہی کے باعث حاضر دربار نہیں ہوتے کہ حکم الٰہی آنے سے پہلے مجھ سے یہ قتل واقع ہوگیا ورنہ بعد میں تو آپ کی دعا سے سارے قبطی ہلاک کردیئے گئے یہ بات خوب خیال رہے۔ ۱۰؎ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی کوئی خطا بیان نہ فرمائیں گے مگر پھر بھی شفاعت کی ہمت نہ کریں گے یا تو اس لیے کہ آپ کو عیسائیوں نے خدا کا بیٹا کہا تھا۔چنانچہ آپ سے سوال ہوگا"ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوۡنِیۡ"الخ یا اس لیے کہ آپ جانتے ہیں شفاعت کبریٰ صرف حضور انور فرمائیں گے۔ ۱۱؎ یہاں چند باتیں خیال رہیں: ایک یہ کہ یہاں حضور کے طفیل لوگوں کے گناہ معاف کرنا مراد ہے،حضور انور نے کبھی گناہ کرنے کا ارادہ بھی نہیں کیا ورنہ مغفرت تو سارے نبیوں کی ہوچکی ہے خصوصیت سے حضور انور کے لیے یہ کیوں فرمایا گیا۔دوسرے یہ کہ دنیا میں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے حضور انو رکی تشریف آوری کی بشارت دی "مُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ یَّاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعْدِی اسْمُہٗۤ اَحْمَدُ"۔قیامت میں بھی حضور کا پتہ آپ ہی دیں گے۔حضرت مسیح صبح کا وہ تارا ہیں جو سورج کی خبر دیتاہے۔تیسرے یہ کہ ان تلاش کرنے والوں میں سارے محدثین و فقہاء ہوں گے جنہوں نے یہ حدیث روایت کی ہم کو سمجھائی مگر کسی کو یاد نہ آئے گاکہ حضور شفیع المذنبین ہیں چلو وہاں چلیں حتی کہ حضرات انبیاءکرام کو بھی یاد نہ رہے گا۔یہ لوگ اپنے خیال سے آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور حضرات انبیاءکرام کے بھیجنے سے ایک دوسرے کے پاس۔یہ سب کچھ اس لیے ہے تاکہ حضور کی شان معلوم ہو اگر پہلے ہی لوگ حضور کے پاس پہنچ جاتے اور شفاعت ہوجاتی تو کون کہہ سکتا تھا کہ شفاعت ہر جگہ ہوسکتی تھی ہم اتفاقًا یہاں آگئے اور حضور نے شفاعت کردی،یہ خیال دفع فرمانے کے لیے اسی طرح پھرایا گیا،یہ بات مرقات نے بیان کی اعلیٰ۔حضرت نے فرمایا۔شعر خلیل و نجی مسیح و صفی سبھی سےکہیں نہ نبی یہ بے خبری کہ خلق پھری کہاں سے کہاں تمہارے لیے چوتھے یہ کہ اس وقت تو مخلوق حضور کو ڈھونڈھے گی بعد میں حضور انور اپنے ہر گنہگار کوتلاش فرمائیں گے۔شعر ہیں جن کی جستجومیں ہوں وہ مجھ کو آپ ڈھونڈیں گے خداوندا میں تیرےحشرکےمیدان کےصدقے ۱۲؎ دارہ میں ہ کی ضمیریا تو رب تعالٰی کی طرف ہے تو یہ اضافت عزت و شرف کی ہے یا شفاعت کی طرف یعنی میں اس شفاعت کی جگہ تشریف فرما ہوں گا۔یہ جگہ یا تو مقام محمود ہے یا مقام وسیلہ ہے یا عرش کے نیچے کوئی جگہ یا کوئی اور خاص جگہ جہاں صرف حضور کی رسائی ہے۔خیال رہے کہ لوگ تلاش کرتے کرتے حضور تک ایک ہزار سال میں پہنچیں گے۔ ۱۳؎ رب تعالٰی بے حجاب حضور انور کو اپنا دیدار عطا کرے گا،حضور سجدہ کریں گے یہ سجدہ شفاعت کبریٰ کی چابی ہے جس سے دروازہ شفاعت کھلے گا اوررب تعالٰی عدل سے فضل کیطرف توجہ فرمائے گا۔حضور کا سجدہ میں گرنا ہم گرتے ہوئے گنہگاروں کے سنبھلنے کا ذریعہ ہوگا،یہ سجدہ عرض معروض کی اجازت حاصل کرنے کے لیے ہوگا جیسے شاہی دربار میں جب کچھ عرض کرنا ہو تو پہلےسلامی مجرا ادا کیا جاتا ہے۔حضور کا وہاں سے ہٹ کر یہاں آنا اس لیے ہے کہ وہ جگہ حسا ب کی تھی اور یہ جگہ اکرام و احترا م کی یہ عرض اسی جگہ ہونی چاہیے تھی۔(مرقات)یہ سجدہ ایک ہفتہ کی برابر رہے گا۔ ۱۴؎ اس سجدے سے دربار رحمت جوش میں آجاوے گا حکم ہوگا پہلے سر اٹھاؤ تم ہم کو دیکھو ہم تم کو دیکھیں،پھر عرض کرو آج ہماری تمہاری بات آمنے سامنے ہوگی اللھم صلی علی سیدنا محمد و سلم۔ ۱۵؎ یعنی وہ حمدوثنا مجھے بطور الہام مجھے وہاں ہی سکھائی جاوے گی ابھی ہم کو معلوم نہیں۔خیال رہے کہ رب تعالٰی کے اوصاف دنیا کے واقعات نہیں،حضور کا علم دنیا کے واقعات کو محیط ہے نہ کہ صفات الہیہ کو لہذا یہ واقعہ علم غیب کے خلاف نہیں۔ ۱۷؎ یعنی یہ جگہ تو شفاعت کی تھی بخشش کی جگہ دوسری ہوگی۔چنانچہ ہم یہاں سے چل کر وہاں پہنچیں گے جہاں بخشش کا ظہور ہوگا۔حد مقرر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ حکم ہوگا اپنی اتنی امت کو جنت میں داخل کردو۔معلوم ہوا کہ لوگ جنت میں حضور کے پہنچائے پہنچیں گے اپنے آپ نہ جائیں گے۔ ۱۷؎ دارہ کی تحقیق ابھی کی جاچکی ہے کہ اس سے مراد ہے شفاعت کی جگہ یا اللہ کا گھر جو شفاعت کے لیے خاص کیا گیا وسیلہ یا اور جگہ۔ ۱۸؎ خیال رہے اس حدیث میں اختصار ہے۔حضور کی شفاعتیں چند ہوں گی: پہلی شفاعت جس کی تمام دنیا طلبگار ہوگی وہ تو ہے حساب کتاب شروع کرانا،لوگوں کو میدان محشر سے نجات دلانا۔یہ اس وقت ہوگی جب کہ کوئی جنت یا دوزخ میں نہ گیا ہوگا کہ ابھی تو حساب ہی نہیں ہوا ہے وہاں جانا کیسا،اسی مطالبہ اور عرض معروض کا ذکر اول حدیث میں ہوا۔آخری شفاعت دوزخ میں گرے ہوئے مسلمانوں کو وہاں سے نکالنا اس کا ذکر یہاں ہورہا ہے،یہ شفاعت سب سے آخر میں ہوگی درمیان میں بہت سی شفاعتیں ہوں گی۔کسی کا ہلکا پلہ بھاری کرانا،صراط پر گرتے ہوؤں کو سہارا دے کر گزار دینا،بندھے ہوئے گنہگاروں کو کھلوادینا،پکڑے ہوئے گنہگاروں کو چھڑوادینا،ہم جیسے روسیاہوں کے منہ کی کالک صاف کراکر چہرے اوجیالے کرادینا وغیرہ ان شفاعتوں کا یہاں ذکر نہیں فرمایا گیا ابتداء انتہا کا ذکر ہے۔اس کی اور توجیہیں بھی کی گئی ہیں مگر مرقات نے اس کو ترجیح دی۔غرضکہ حدیث میں اختصار ہے ایسے اختصار قرآن مجید میں بہت ہیں۔ ۱۹؎ ہم پہلے بہ حوالہ مرقات عرض کرچکے کہ حضور انور کے یہ سجدے ایک ایک ہفتے کی بقدر ہوں گے یعنی اگر دن رات ہوتے تو فی سجدہ ایک ہفتہ گزرتا،نہ معلوم اتنے دراز سجدوں میں حضور کیا کیا اور کیسی کیسی حمد کریں گے اور رب تعالٰی حضور کے کیسے کیسے درجے بلند فرمائے گا یہ تو یا دینے والا رب جانے یا لینے والے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم۔ ۲۰؎ معلوم ہوا کہ اس آخری شفاعت کے تین حصے ہوں گے ہر حصہ میں تہائی گنہگار دوزخ سے نکالے جائیں گے۔خیال رہے کہ فاستاذن علی ربی میں اس مقام شفاعت میں داخلہ کی اجازت مراد ہے اوریہاں سجدہ کے بعد جو اجازت ہے وہ شفاعت کی اجازت ہے لہذا فرمان عالی میں تکرار نہیں۔یہ بھی خیال رہے کہ حضور انور کا ان دوزخیوں کو نکالنا بلا واسطہ بھی ہوگا اور بالواسطہ بھی یعنی بعض کو خود حضور انور نکالیں گے بعض کو حضور انور کے غلام یعنی مؤمنین،لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ جنتی مؤمن دوزخ میں جاکر وہاں دوزخی مؤمنین کو نکالیں گے اولًا انہیں جنکے دل میں درہم برابر ایمان ہے،پھر انہیں جن میں نصف درہم برابر ایمان ہے حتی کہ آخر میں انہیں جن میں رائی برابر ایمان ہے۔ ۲۱؎ یعنی جن کے متعلق قرآن کریم نے فرمایا:"خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا"۔اس حدیث کے ظاہر سے معلوم ہورہا ہے کہ دوزخ میں پہنچے ہوئے گنہگار مؤمنین کو صرف حضور صلی اللہ علیہ و سلم یا حضور کی امت کے اولیاء علماء نکالیں گے،یہ مؤمنین خواہ امت محمدیہ کے ہوں یا دوسری امتوں کے سب کی رہائی حضور کی شفاعت سے ہوگی۔دوسرے نبیوں کا گنہگاروں کو دوزخ سے نکالنا کسی حدیث سے ثابت نہیں ہوتا،یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس امت کے گنہگاروں کو تو حضور انور اور آپکے خدام نکالیں گے دوسری امتوں کے دوزخی گنہگاروں کو وہ حضرات نکالیں۔واللہ ورسولہ اعلم! ۲۲؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ فرمان عالی خود حضور انور کا اپنا ہے۔نبیکم فرمانا ایسا ہی ہے جیسے رب تعالٰی قرآن مجید میں فرماتاہے:"ہٰذَا یَوْمُ یَنۡفَعُ الصّٰدِقِیۡنَ صِدْقُہُمْ"یعنی کبھی متکلم اپنا نام یا اپنے القاب سے اپنا ذکر کرتا ہے اورممکن ہے یہ کلام کسی راوی کا ہو تب نبیکم فرمانا بالکل ظاہر ہے۔