| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں ۱؎ جو مجھ پرگزرے گا وہ پئے گا اور جو پئے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا۲؎ میرے پاس کچھ قومیں آئیں گی جنہیں میں پہچانتا ہوں اور وہ مجھے پہچانتے ہیں۳؎ پھر میرے اور ان کے درمیان آڑ کردی جاوے گی۴؎ تو میں کہوں گا یہ تو میرے ہیں ۵؎ تو فرمایا جاوے آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا باتیں پیدا کیں ۶؎ میں کہوں گا اسے دوری ہو جو میرے بعد تبدیلی کرلے ۷؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ فرط صفت مشبہ ہے اس کا مصدر فرط بمعنی آگے ہونا،پیشوائی کرنا،فرط کے معنی ہیں پیشرو یعنی حوض کوثر پر تم لوگ میرے پیچھے پیچھے حوض کوثر پر پہنچو گے،حوض کوثر پر رہبری بھی ہم ہی کریں گے یا مطلب یہ ہے کہ حوض کوثر پر پہلے ہم پہنچ چکے ہوں گے وہاں کا انتظام فرمانے کے لیے بعد میں تم پہنچو گے۔غالب یہ ہے کہ یہاں حوض سے مراد وہ حوض ہے جو میدان حشر میں ہوگا کہ پیاس یہاں ہی بجھے گی۔ ۲؎ ظاہر یہ ہے کہ پینا حساب کتاب سے فارغ ہوکر نصیب ہوگا۔(مرقات)بعض شارحین نے فرمایا کہ مؤمن میدان حشر میں پہنچ کر میزان و حساب سے پہلے یہ پانی پئیں گے،اللہ نصیب کرے۔ ۳؎ یعنی تا قیامت جتنے مرتدین وہاں حوض کوثر سے روکے جانے والے ہیں انہیں میں آج ہی پہچانتا ہوں اور اس دن بھی پہچانتا ہوں گا،وہ مجھے دنیا میں بھی پہچانیں گے اور آخرت میں بھی،یا اس سے مراد حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی حیات شریف میں موجود مرتدین جو بعد پردہ فرمانے کے مرتد ہوگئے تھے جیسے منکرین زکوۃ اور مسیلمہ کذاب پر ایمان لے آنے والے مرتدین ہیں جن سے حضرت امیر المؤمنین ابوبکر صدیق نے جہاد کیے۔ ۴؎ اس طرح کہ انہیں دھکے دے کر وہاں سے نکال دیا جاوے گا اتنی دور کہ وہ مجھے نظر نہ آئیں میں انہیں نظر نہ آؤں۔یہ مطلب نہیں کہ انہیں وہاں ہی رکھا جاوے اور بیچ میں پردہ حائل کردیا جاوے۔خیال رہے کہ ان مرتدین کو یہاں لاکر سب کچھ دکھا کر انہیں دور کیا جاوے گا تاکہ انہیں بہت ہی افسوس ہو۔ ۵؎ یعنی میرے دوست یا میرے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے میرا نام لینے والے ہیں۔حضور انور کا یہ فرمان ان کو زیادہ ذلیل کرنے کے لیے ہوگا،جیسے رب تعالٰی دوزخیوں سے فرمائے گا:"ذُقْ اِنَّکَ اَنۡتَ الْعَزِیۡزُ الْکَرِیۡمُ"تو چکھ تو تو بڑا عزت والا کرم والا ہے۔یہ مطلب نہیں کہ حضور انور پہچانیں گے نہیں ابھی فرمان عالی گزرا اعرفھم میں انہیں پہچانتا ہوں،نیز یہ واقعہ حضور کو آج تو معلوم ہے کل کیسے بھول جاوے گا،نیز ان کے منہ کالے،ہاتھ بندھے ہوئے،بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال لیے ہوں گے،رب فرماتاہے:"یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوۡنَ بِسِیۡمٰہُمْ"۔ ۶؎ فرشتوں کا یا رب تعالٰی کا یہ کہنا کہ تم نہیں جانتے ان مرتدین پر اظہار غضب کے لیے ہے جیسے بلاشبہ باپ بیٹے کو مارنے لگے ماں جو اس سے سخت نالاں تھی محبت مادری میں بچانا چاہےباپ کہے تو اس خبیث کو نہیں جانتی اسے تو میں ہی جانتا ہوں۔اس کا مقصد یہ ہے کہ اسے مت بچا مجھے سزا دے لینے دے،رب تعالٰی منافقین کے متعلق فرماتا ہے:" لَا تَعْلَمُہُمْ نَحْنُ نَعْلَمُہُمْ"انہیں تم نہیں جانتے ہم جانتے ہیں حالانکہ حضور منافقین کو خوب جانتے تھے، فرماتاہے:"وَ لَتَعْرِفَنَّہُمْ فِیۡ لَحْنِ الْقَوْلِ"تم انہیں کلام کی روش سے ہی پہچان لیتے ہو۔ ۷؎ یعنی میری وفات کے بعد اپنا دین بدلے کہ اسلام چھوڑ کر کافر ہوجائے۔خیال رہے کہ اس حدیث کی بنا پر روافض کہتے ہیں کہ سارے حضرات صحابہ مرتد ہو گئے تھے نعوذ باللہ! اگر یہ مطلب ہے تو حضرت علی وغیرہم بھی صحابی ہیں ان پر بھی الزام آجائے گا اگر وہ حضرات مرتد ہوتے تو حضرت علی نہ ان سے بیعت کرتے نہ انکے پیچھے نمازیں پڑھتے نہ ان کے ہدایا لیتے اور دیوبندی کہتے ہیں کہ حضور انور کو قیامت میں بھی مخلص مؤمن اپنے پرائے کی پہچان نہ ہوگی اس کے جواب ابھی عرض کیے گئے۔