| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ میں ابن صیاد سے ملا اس کی آنکھ سوج گئی ۱؎ تو میں نے کہا کہ تیری آنکھ نے کیا کیا جو میں دیکھ رہا ہوں بولا مجھے خبر نہیں ۲؎ میں نے کہا کہ تجھے خبرنہیں حالانکہ وہ تیرے سر میں ہے بولا اگر اللہ چاہے تو تمہاری لاٹھی میں آنکھ پیدا کردے۳؎ فرماتے ہیں پھر گدھے کی سی سخت آواز نکالی جو تو نے سنا ہو۴؎(مسلم)
شرح
۱؎ یعنی پہلے اس کی آنکھ اچھی بھلی تھی کہ اچانک سوج گئی اور کسی علاج سے اچھی نہ ہوئی پہلے میں نے اس کی آنکھ اچھی دیکھی تھی آج ورم ہوگیا۔ ۲؎ یعنی بغیر سبب بغیر وجہ خود بخود یہ آنکھ ایسی ہوگئی۔ ۳؎ اس جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن صیاد خدا کو مانتا تھا،اس کے قادر مطلق ہونے پر ایمان رکھتا تھا،وہ کہہ یہ رہا ہے کہ مجھے یہ ورم تکلیف کے بغیر ہوا ہے اس لیے مجھے پتہ نہ لگا اگرچہ آنکھ میرے سر میں تھی جیسے اے ابن عمر اگر رب تعالٰی اچانک تمہاری لاٹھی میں آنکھ پیدا کردے بغیرکسی سبب کے تو اگرچہ لاٹھی تمہارے ساتھ رہتی ہے مگر تمہیں پتہ نہ لگے گا کیونکہ یہ کام اچانک ہوگا ایسے ہی میرا معاملہ ہے۔ ۴؎ یعنی تم نے جتنے گدھوں کی آواز سنی ہو ان میں سخت تر آواز سے وہ رینگنے لگا کوئی گدھا اتنی سخت آواز سے نہیں رینگتا۔اس میں دو احتمال ہیں: یا سمعت متکلم کا صیغہ ہو یا سمعت واحد مخاطب کا صیغہ دونوں مطلب درست ہیں۔(مرقات)