| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن عمر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں نے آج رات اپنے کو کعبہ کے پاس دیکھا ۱؎ تو میں نے ایک شخص کو دیکھا گندمی رنگ ان سب سے اچھا جو تم نے گندمی رنگ کے لوگ دیکھے ان پٹھے والے بال میں تمام پٹھے والوں سے اچھے جو تم نے دیکھے ہوں اس میں کنگھی کی ہوئی ہے ان سے پانی ٹپک رہا ہے۲؎ دو شخصوں کے کندھوں پر ٹیک لگائے ہیں بیت اللہ کا طواف کررہے ہیں،میں نے پوچھا یہ کون ہیں لوگوں نے کہا یہ مسیح ابن مریم ہیں۳؎ فرمایا میں پھر ایک شخص پر تھا بال چھلے والے۴؎ داہنی آنکھ کا کانا گویا اس کی آنکھ ابھرا ہوا انگور ہے جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہے ان میں سے سب سے زیادہ مشابہہ ابن قطن سے تھا ۵؎ اپنے دونوں ہاتھ دو شخصوں کے کندھوں پر رکھے بیت اللہ کا طواف کررہا تھا ۶؎ میں نے پوچھا یہ کون ہے لوگوں نے کہا یہ مسیح دجال ہے ۷؎(مسلم،بخاری)اور ایک روایت میں ہے کہ حضور نے دجال کے بارے میں فرمایا کہ وہ سرخ رنگ موٹے بال داہنی آنکھ کانی والا آدمی ہے ۸؎ لوگوں میں اس سے زیادہ مشابہہ ابن قطن ہے اور ابوہریرہ کی حدیث لا تقوم الساعۃ حتی تطلع الشمس من مغربہا الخ باب الملاحم میں ذکر کردی گئی اور ہم حضرت ابن عمر کی حدیث قام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فی الناس ابن صیاد کے قصہ میں ان شاء اللہ ذکر کریں گے ۹؎
شرح
۱؎ یا تو خواب میں دیکھا یا کشف میں۔(مرقات)بہرحال یہ دیکھنا ہے بالکل برحق کیونکہ نبی کا کشف بھی وحی ہے اور خواب بھی وحی۔ ۲؎ یہ پانی وضو کا ہے یا غسل کایا رحمت الٰہی کا آپ باوضو طواف کررہے تھے۔ ۳؎ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر آیا کرتے ہیں مگر پردہ غیب میں رہ کر اور یہ کہ آپ حج و عمرہ بھی ادا کرتے ہیں مگر لوگوں کی نگاہ سے غائب اور یہ کہ حضور کی نگاہیں پوشیدہ چیزوں کو دیکھتی ہیں بلکہ حضرات انبیاءکرام بعد وفات روئے زمین کی سیرکرتے ہیں۔موسیٰ علیہ السلام نے حضور انورکے ساتھ حج کیا حجۃ الوداع بعد وفات عالم کی سیرکرنا مشکل نہیں۔یہ دونو ں آدمی جن کے کندھوں پر آپ ہاتھ رکھے ہوئے طواف کررہے ہیں وہ حضرت خضر ہیں اور حضرت امام مہدی کی روح،یہ دونوں حضرات جناب مسیح کی مدد آپ کی خدمت کے لیے آپ کے ساتھ ہیں۔(مرقات)اور ہوسکتا ہے کہ یہ دونوں مرد فرشتے ہوں شکل انسانی میں جو آپ کی اس خدمت کے لیے مقرر کیے گئے ہوں۔ ۴؎ جعد کے معنی ہیں گھونگھر والے بال یعنی قدرے خم دار،قطط کے معنی ہیں بہت ہی اٹھے ہوئے چھلے کی طرح گول،جعودہ حسن ہے مگر چھلے والے بال بدصورتی۔ ۵؎ یعنی دجال عبدالعزیٰ ابن قطن یہودی کے ہم شکل ہے جسے تم نے دیکھا ہے اگر دجال کو دیکھنا ہو تو اسے دیکھ لو۔ (اشعہ،مرقات) ۶؎ یہ شخص وہ فرشتے تھے جو دجال کی قید میں نگرانی کرتے ہیں وہ اسے طواف کرانے ایسے لائیں ہیں جیسے جیل کی پولیس ملزم قید ی کو کبھی حاکم کی کچہری وغیر ہ میں اپنی نگرانی میں پیش کرتی ہے۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ ابھی دجال کافر نہیں ہوا جب اس کا خروج ہوگا تب کافر ہوگا۔دوسرے یہ کہ ابھی اس کا داخلہ مکہ معظمہ میں ممنوع نہیں جب اس کا خروج ہوگا تب وہ حرمین شریفین میں داخل نہ ہوسکے گا۔تیسرے یہ کہ دجال ابھی قید میں ہے مگر پھر بھی فرشتوں کے پہرے میں کعبہ وغیرہ میں پہنچتا ہے۔چوتھے یہ کہ حضور نے دجال کو دیکھا ہے اسے پہچانتے ہیں کیونکہ نبی کی خواب وحی ہوتی ہے۔یہاں اشعہ نے فرمایا کہ دجال کا یہ طواف جو حضور انور نے خواب میں دیکھا وہ اس مردود کا مکہ معظمہ کے اردگرد گھومنا ہے جو وہ قریب قیامت چکر لگائے گا لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے اور عیسیٰ علیہ ا لسلام کا طواف یہ مکہ معظمہ میں طواف کرکے دجال کے پیچھے گھومنا ہے اسے قتل کرنے کے لیے یہ خواب مثال ہے۔ ۷؎ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسیح بمعنی ماسح یعنی چھوکر بیماروں کو شفا دینے والے،دجال مسیح بمعنی ممسوح یعنی ایک آنکھ پونچھی ہوئی صاف اور بھی بہت فرق ہیں۔ ۸؎ یعنی دجال انسان ہے،مرد ہے،رنگ کا سرخ،بدن کا موٹا،بالوں کا چھلے دار،آنکھ کا کانا،اس وقت اس کی داہنی آنکھ کانی ہے،خروج کے وقت کبھی داہنی کانی ہوگی کبھی بائیں جیساکہ پہلے گزرچکا ہے۔و اللہ ورسولہ اعلم! ۹؎ یعنی یہ دونوں حدیثیں مصابیح میں اسی جگہ تھیں مگر ہم نے مناسبت کا لحاظ کرتے ہوئے پہلی حدیث تو باب الملاحم میں ذکر کردی اور دوسری حدیث ان شاءاﷲ ابن صیاد کے باب میں بیان کریں گے کہ وہ حدیثیں انہیں بابوں کے مناسب ہیں۔