| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ دنیا نہ جائے گی حتی کہ ایک آدمی قبر پر گزرے گا تو وہ وہاں لوٹے گا اور کہے گا ہائے کاش اس قبر والے کی جگہ میں ہوتا ۱؎ اور نہ ہوگا اس میں دین سواء بلا کے ۲؎ (مسلم)
شرح
۱؎ یعنی دنیا میں فتنے اور آفتیں بلائیں اس قدر ہوں گی کہ لوگ زندگی پر موت کو ترجیح دیں گے اور قبر کو دیکھ کر تمنا کریں گے کہ اس قبر میں ہم دفن ہوچکے ہوتے۔ ۲؎ یعنی اس لوٹنے والے تمنا کرنے والے میں دین کا شائبہ بھی نہ ہوگا اور وہ دین کی وجہ سے یہ آرزو نہ کرے گا بلکہ فتنوں میں مبتلا ہوگا،انہیں دنیاوی مصیبتوں کی وجہ سے یہ آرزو کرے گا،یا یہ مطلب ہے کہ زمین پر اس وقت دین نہ رہے گا فتنے ہی فتنے بلائیں ہی بلائیں ہوں گی،وہ زمانہ وہ ہوگا جب زمین دین سے خالی ہوجاوے گی۔