۱؎ ان صاحب کا نام شریف معلوم نہ ہوسکا مگر چونکہ سارے صحابہ عادل ہیں ان میں فاسق کوئی نہیں اس لیے یہ حدیث مجہول نہ ہوگی صحیح رہے گی۔ہم ابھی گزشتہ حدیث میں بتا چکے کہ حبشہ سے کون سے حبشی لوگ مراد ہیں اور یہ حکم کس وقت کے لیے ہے لہذا حدیث واضح ہے۔
۲؎ ترك سے مراد قوم یا جوج ماجوج کا ایک قبیلہ ہے جن سے مسلمانوں کی جنگ عظیم قریب قیامت ہوگی،یہ حدیث قرآن کریم کی اس آیت کی مخصص ہے"وَقٰتِلُوا الْمُشْرِکِیۡنَ کَآفَّۃً"کہ مشرکین میں سے ان دونوں قبیلوں کو الگ کردیا گیا جیسے خبر کا حکم مطلق ہے"حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنۡ یَّدٍ وَّہُمْ صٰغِرُوۡنَ"سے مشرکین عرب بحکم حدیث علیحدہ ہیں کہ ان کے لیے قتل ہے یا اسلام لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ یہ اس حکم قرآن کے خلاف ہے۔(لمعات،مرقات،اشعہ)