۱؎ آپ کانام سعید ابن مسیب ہے،جلیل القدر تابعی ہیں،آپ نے خلفاء راشدین کو دیکھا ہے۔
۲؎ یعنی اصحاب بدر نے دو فتنے نہ دیکھے بلکہ پہلا فتنہ یعنی شہادت عثمان غنی دیکھی جو ۳۵ھ پینتیس میں ہوئی،اس کے بعد سے دوسرے فتنہ سے پہلے پہلے تمام بدری صحابہ وفات پا گئے،یہ مطلب نہیں کہ شہادت عثمان کے موقعہ تمام بدری صحابہ شہید ہوگئے۔آخری بدری صحابی حضرت سعد ابن ابی وقاص ہیں جو جنگ حرہ سے چند سال پہلے وفات پاگئے۔(لمعات،مرقات)
۳؎ فتنہ حرہ ۶۳ھ میں واقعہ ہوا جب کہ یزید ابن معاویہ نے مدینہ منورہ پر چڑھائی کی،اس کے بعد سے تیسرے فتنہ تک حدیبیہ والے صحابہ میں سے کوئی نہ رہا،تیسرے فتنہ سے پہلے وہ حضرات وفات پا گئے یہ مطلب نہیں کہ حرہ میں سارے حدیبیہ والے شہید ہوگئے۔
۴؎ بعض شارحین نے کہا کہ تیسرے فتنہ سے مراد عبداللہ ابن زبیر اور حجاج ابن یوسف کی جنگ ہے مگر یہ درست نہیں کیونکہ یہ جنگ ۷۴ھ چوہتر میں ہوئی،اس وقت مسلمانوں میں صحابہ کرام بہت موجود تھے،بعض نے کہا کہ اس سے مراد ازارقہ کا فتنہ ہے مگر یہ بھی درست نہیں کہ یہ فتنہ مدینہ منورہ میں نہ تھا بلکہ عالمگیر تھا۔درست یہ ہے کہ اس سے مراد ابن حمزہ خارجی کا فتنہ ہے جو مروان ابن محمد بن مروان ابن حکم کے زمانہ میں ہوا۔
۵؎ طباخ ط کے کسرہ سے بمعنی قوت و عقل،یہاں مراد ہے کہ اس زمانہ میں کوئی صحابی باقی نہ رہا زمین حضرات صحابہ کرام سے خالی ہوگئی۔