Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
253 - 4047
حدیث نمبر 253
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا ۱؎  کہ اسلام کی چکی پینتیس یا چھتیس یا سینتیس تک گھومتی رہے گی تو اگر وہ ہلاک ہوگئے تو ہلاک ہونے والوں کا راستہ ہلاک شدگان ہے۲؎  اور اگر قائم رہا تو ان کا دین قائم رہے گا۳؎ ستر سال میں نے کہا کہ کیا یہ حساب اگلے باقی زمانہ سے یا گذشتہ فرمایا گزشتہ سے۴؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ اس فرمان عالی کے بہت مطلب ہوسکتے ہیں: ظاہر یہ ہے کہ اس میں تین فتنوں کی طرف اشارہ ہے پہلا فتنہ شہادت عثمان غنی جو  ۳۵ھ؁ میں ہوا،دوسرا فتنہ جنگ جمل جو   ۳۶ھ؁  میں ہوا،تیسرا فتنہ جنگ صفین جو ۳۷ھ؁  میں ہوا۔معنی یہ ہیں کہ اسلام میں فتنے گردش کریں گے ان سالوں میں اور ہوسکتا ہے کہ یہ فرمان عالی اپنی وفات شریف کے قریب فرمایا ہو کہ اب سے اتنے عرصہ تک اسلام قوی رہے گا تیس سال خلفاء راشدین کی خلافت کا زمانہ باقی زائد حال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی حیات شریف کی باقی سال اور یہ کلام تقریبًا ہو۔(اشعہ)

۲؎  یعنی اگر مسلمان اس مذکورہ زمانہ میں ہلاک ہوجائیں کہ اپنے کو درست نہ کرسکیں تو ان کا راستہ وہ ہی ہوگا جو گزشتہ ہلاک شدہ قوموں کا ہوا کہ عذاب الٰہی کے مستحق ہوں گے۔

۳؎  یعنی اگر اس مذکورہ مدت میں یہ لوگ سیدھے رہے یا سیدھے ہوگئے تو ان کی سلطنت اور حکومت اسلامیہ ستر سال تک قائم رہے اس کا ظہور ہوچکا،اس طرح کہ خلافت راشدہ کا دور یعنی تیس سال ختم ہونے کے بعد حکومت بنی امیہ میں پہنچی،پھر ستر سال کے بعد بنی امیہ سے منتقل ہوکر بنی عباس میں پہنچی اور مسلمانوں میں بہت ضعف پیدا ہوگیا۔

۴؎  ابن مسعود فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یہ ستر سال جو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائے ان کی ابتداء اس مذکورہ مدت بتیس چھتیس سینتیس سال کے بعد شروع ہوگی یا مع ان کے،فرمایا مع ان کے،اس فرمان عالی کے اور بہت مطلب بیان کیے گئے ہیں۔خیال رہے کہ بنی امیہ کی سلطنت امیر معاویہ سے شروع ہوئی اورمروان ابن محمد پر ختم ہوئی،یہ کل مدت نواسی۸۹ سال ہے لہذا مطلب یہ ہے کہ اس مدت میں ستر سال سلطنت اسلامیہ کا غلبہ رہے گا،ستر برس کے بعد بنی امیہ کی سلطنت میں ضعف شروع ہوجاوے گا حتی کہ انیس برس بعد ان سے سلطنت منتقل ہوجاوے گی۔
Flag Counter