Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
236 - 4047
حدیث نمبر 236
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے دنیا نہ جائے گی حتی کہ لوگوں پر وہ دن آجائے گا جب قاتل نہ جانے گا کہ کس جرم میں قتل کیا اور نہ مقتول جانے گا کہ وہ کس جرم میں قتل کیا گیا ۱؎ عرض کیا گیا یہ کیسے ہوگا فرمایا فتنہ عامہ کی وجہ سے۲؎ قاتل مقتول دونوں دوزخ میں جائیں گے۳؎(مسلم)
شرح
۱؎ اس فرمان عالی کا ظہور آج پورے طور سے ہورہا ہے۔بات بات پر مکھی،مچھر،کھٹمل کی طرح انسان قتل کرائے جارہے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ قاتلوں کو سزا نہیں ملتی تو مقتول کے وارثین ایک کے عوض دو تین کو مار دیتے ہیں پھر وہ لوگ دو کے عوض تین چار کو،اگر عدالتوں سے سزا پوری پوری ملے تو جرموں کی جڑ کٹ جاوے،رب تعالٰی فرماتاہے: "وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ"۔

۲؎  یعنی لوگوں میں لاقانونیت،طبیعتوں میں بربریت پیدا ہوجاوے گی،شرافت انسانی لوگ کھو چکیں گے،اس حدیث کی زندہ شرح یہ زمانہ ہے۔

۳؎  قاتل تو قتل کی وجہ سے دوزخ میں جاوے گا اور مقتول ارادۂ قتل کی وجہ سے کہ وہ بھی اسی ارادہ سے آیا تھا اس کا داؤ نہ چلایا وار خالی گیا۔معلوم ہوا کہ گناہ کا پختہ ارادہ بھی گناہ،اللہ تعالٰی گناہ اور ارادۂ گناہ دونوں سے بچائے۔
Flag Counter