Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
202 - 4047
الفصل الثالث

تیسری فصل
حدیث نمبر 202
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ تم لوگ ایسے عمل کرتے ہو جو تمہاری نگاہوں میں بال سے زیادہ باریک ہیں ۱؎ ہم انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں موبقات یعنی ہلاک کرنے والے سمجھتے تھے ۲؎ (بخاری)
شرح
۱؎ یعنی معمولی روز مرہ کے گناہ جو عادۃً ہوتے رہتے ہیں جیسے بدنظری یا زبان سے جھوٹ غیبت کا نکل جانا جنہیں تم نہایت معمولی سمجھتے ہو۔مرقات نے اس عبارت کے یہ معنی کیے کہ وہ اعمال جنہیں تم باریک نظری سے نیکیاں سمجھتے ہو انہیں کھینچ تان کر اچھا جانتے ہو۔

۲؎  یعنی ہم انہیں ہلا ک کردینے والے گناہ سمجھتے تھے۔معلوم ہوا کہ چھوٹے گناہوں کو بڑا سمجھنا،ان سے بہت ڈرنا بچنا قوت ایمانی کی دلیل ہے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ تابعین کےزمانہ میں بہت سے بری بدعتیں ایجاد ہوچکی تھیں جنہیں لوگ نیکی سمجھتے تھے اور واقع میں وہ گناہ تھے۔آج بعض لوگ نماز کی پرواہ نہیں کرتے،تلاوت قرآن کے قریب نہیں جاتے،دن رات گانا بجانا،ڈھول ڈھماکا حتی کہ بھنگ چرس میں مشغول رہتے ہیں اور اسے خدا رسی کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور ایسے لوگوں کو ولی سمجھتے ہیں۔

کار شیطان می کند نامش ولی 		 	گر ولی ایں است لعنت بر ولی
Flag Counter